وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز تفتیشی ٹیم کو بیان ریکارڈ کرانے پہنچ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز چھے اہم قومی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ تفتیشی ٹیم ’’جے آئی ٹی‘‘ کے سامنے پیش ہو گئی ہیں جہاں وہ اپنا بیان ریکارڈ کرا رہی ہیں۔ مریم نواز کی پیشی کے موقع پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے اطراف پولیس، ایف سی اور رینجرز تعینات ہے۔ ن لیگی کارکنوں کی جانب سے مریم نوازکے حق میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے اطراف بینرز آویزاں کر دیئے گئے ہیں، بینرز میں مریم نواز کے حق میں نعرے درج ہیں۔

سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے میں جے آئی ٹی کو وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا اور اس فیصلے میں مریم نواز سے تحقیقات کا ذکر نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو دس جولائی کو اپنی تحقیقات مکمل کر کے حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہوا ہے۔

اس سے قبل حسن نواز تین جولائی کو جبکہ حسین نواز چار جولائی کو ایک بار پھر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز اب تک سات مرتبہ جبکہ حسن نواز تین مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

ان کے علاوہ وزیراعظم نواز شریف ان کے بھائی شہباز شریف اور داماد ریٹائڑڈ کیپٹن صفدر ایک ایک بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے حال ہی میں لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ان کے خلاف الزام کی حد تک بھی کچھ نہیں ملا۔

واضح رہے کہ رواں برس 20 اپریل کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں چھ رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان نے کمیٹی کو 60 دن کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا وقت دیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹیم کے لیے وضع کیے گئے ضوابط کمیٹی کو ہر 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں