.

پاکستانی ریستوران میں پہلی بار روبوٹ ویٹر متعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روبوٹ [مشینی انسان] کا دنیا بھر میں مختلف کاموں کے لیے استعمال اب تیزی کے ساتھ عام ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان کے نسبتا پسماندہ شہر ملتان کے ایک پیزا ریستوران میں روبوٹ ویٹر کی خدمات کا حصول حیرت کا باعث ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ملتان کی شہرت صوفیا اور بزرگان دین کے مزارات کے طور پر بتائی جاتی ہے مگر اب اس کی ایک اور وجہ شہرت یہاں پر روبوٹ ویٹر کی آمد بھی ہے۔

ملتان کے پیزا ڈاٹ کام پر آنے والے ایک گاہک حمید بشیر نے ربوٹ ویٹر کی طرف بڑے انہماک کے ساتھ دیکھنے کے بعد کہا کہ ’سروسز کی فراہمی کی یہ ایک نئی شکل ہے۔ بچوں کے لیے تو یہ غیر معمولی دلچسپی کا حامل ہے‘۔

ہوٹل میں روبوٹ ویٹر کا آیڈیا نوجوان انجینیر اسامہ جعفری کا ہے جو پیزا ڈاٹ کام ریستوران کے مالک بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روبوٹ ویٹر گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

اسامہ جعفری اسلام آباد کی سائنس وٹیکنالوجی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے یہ آئیڈیا چین کے ہوٹلوں سے ملا جہاں روبوٹ کی مدد سے سروسز فراہم کی جاتی ہیں۔ اس نے اپنے اہل خانہ کے تعاون سے چھ لاکھ روپے کی لاگت سے ایک روبوٹ ڈیزائن کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے حیران کن بات یہ ہے کہ لوگ اس مشینی ویٹر کو بہت پسند کرتے ہیں اسامہ جعفری کا کہنا ہے کہ وہ اس روبوٹ کی اگلی نسل تیار کررہے ہیں۔ موجودہ روبوٹ آرڈر سنتا اور اس پرعمل درآمد کرتا ہے۔ نئی نسل گاہکوں کے سوالوں کا جواب بھی دے گی۔