.

پاکستان میں دنیا کا بلند ترین اے ٹی ایم: سیاحوں کے لئے خوشگوار سنگ میل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر آپ پاکستان اور چین کی سرحد پر سطح سمندر سے 15000 فٹ کی بلندی پر پہاڑی سلسلے میں سفر کر رہے ہوں تو ایسے میں آپ کو پیسوں کی ضرورت پر جائے، تو اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ دنیا کا بلند ترین ’’اے ٹی ایم‘‘ آپ کی خدمت کے لئے برف سے ڈھکے پہاڑوں میں منتظر ہے۔

اس بلند ترین اے ٹی ایم مشین سے آپ نقد رقم کے حصول کے ساتھ اپنے ان بلوں کی ادائیگی بھی بآسانی کر سکتے ہیں جنہیں آپ اپنے لمبے سیاحتی ٹرپ کے دوران ادا نہیں کر پائے۔

دنیا کا یہ بلند ترین اے ٹی ایم نینشل بینک آف پاکستان نے برف پوش خنجراب پاس میں سطح سمندر سے 15397 فٹ کی بلندی پر لگایا ہے۔ خنجراب پاس پاکستان کی سرحد پر واقع قراقرم کے پہاڑی سلسلے گلگت بلتستان ہنزہ ضلع ناگر اور چین کی جنوب مغربی سرحد پر سنکیانگ علاقے میں واقع ہے۔

دنیا کے بلند ترین برف پوش پہاڑی سلسلے میں اے ٹی ایم مشین کی تنصیب اور اسے چالو رکھنا کسی بھی بینک کے لئے آسان کام نہیں۔ بینک کے اسٹرٹیجک مارکیٹنگ ڈویژن کے علاقائی سربراہ اویس اسد خان نے بتایا ’’کہ اس کاوش کی تکمیل اور وہاں رقم کی فراہمی جیسے کئی چیلنج درپیش رہے، تاہم مقامی ٹیم، حکام اور پاکستان فوج کے شکر گزار ہیں کہ جن کے تعاون سے دنیا کے بلند ترین اے ٹی ایم کی تنصیب مکمن ہوئی۔‘‘

اویس خان نے بتایا کہ ہم نے اس منصوبے کا آغاز باقاعدہ ہوم ورک کے بعد کیا۔ ہم نے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ سے بھی اس سلسلے میں معلومات لیں۔ بینک کی ماحول دوست پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ہم اس اے ٹی ایم کو دوبارہ قابل استعمال توانائی کے ذرائع یعنی شمسی توانائی اور ہوا کے ذریعے چلاتے ہیں۔ یہ ہفتے کے تمام دن چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے۔

اپنے ساتھ سیاحت پر آنے والے بہت زیادہ کیش لانے سے گریزاں رہتے ہیں، سیاحوں کے علاوہ دنیا کا یہ بلند تین اے ٹی ایم مقامی آبادی میں بھی مقبول ہے اور علاقے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے ٹی ایم پاکستان چین اکامنک کاریڈور کو ملانے والی مرکزی شاہراہ کے آغاز پر ہی واقع ہے۔ یہ نہایت مقبول سیاحتی مقام ہے۔

حال ہی میں خنجراب پاس کا سفر اختیار کرنے والی شہرزاد کلیم اتنی بلندی اور قدرے ویران جگہ پر اے ٹی ایم دیکھ کر کافی حیران ہوئیں۔ ’’مجھے اتنی بلند جگہ پر اے ٹی ایم مشین ملنے کی توقع نہیں تھی، اگرچہ مجھے اس کی ضرورت نہیں پڑی تاہم اس کا وہاں ہونا ایک خوشگوار حیرت سے کم نہ تھا۔ سچی بات تو ہے کہ میں نے کسی کو وہاں نصب اے ٹی ایم مشین استعمال کرتے بھی نہیں دیکھا۔‘‘

دبئی میں مقیم سیاح کلیم کے بقول ’’بلند ترین مقام پر اے ٹی ایم کی تنصیب اچھا تشہیری اقدام تو ہو سکتا ہے، تاہم میں اس کی افادیت کے بارے میں قائل نہیں ہو سکی۔‘‘ ’’برف پوش پہاڑیوں کے بیچوں بیچ سڑک پر اس اے ٹی ایم کی کیا ضرورت تھی جبکہ خنجراب پاس کے بعد آنے والا قصبہ سوست ہے جہاں کئی اے ٹی ایم مشین موجود ہیں؟‘‘

بلوں کی ادائیگی

نینشل بینک نے ایک ای میل کے جواب میں بتایا کہ دنیا کے اس بلند ترین اے ٹی ایم کے ذریعے رقم کی منتقلی اور بلوں کی ادائیگی کی سہولت بھی موجود ہے۔ تاہم اس کے ذریعے رقم جمع کرانے کی سہولت نہیں ہے۔

یہ مشین دن رات سروس مہیا کرتی ہے، تاہم سردیوں میں درجہ حرات نقطہ انجماد سے گرنے کے باعث اس چالو حالت میں رکھنے کے لئے خصوصی انتظام کیا جاتا ہے۔ بینک کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس منفرد اے ٹی ایم کو بلا تعطل چالو حالت میں رکھنے کے لئے سوست شہر میں بینک کی ایک برانچ اس مشین کا خیال رکھتی ہے جبکہ بینک کے مرکزی دفتر میں اس مشین کی چوبیس گھنٹے خصوصی مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل دنیا کے بلند ترین اے ٹی ایم کا اعزاز بھارت کے پاس تھا جہاں دو ہزار سات میں یونین بینک نے سلک روٹ پر صدیوں پرانے پہاڑی درے نتھو لا میں 14300 فٹ کی بلندی پر اے ٹی ایم مشین کپ اپ کے علاقے میں لگائی تھی۔