.

مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں شریف خاندان کے خلاف سنگین الزامات

شریف خاندان کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثوں پر نیب میں ریفرینس دائر کرنے کی سفارش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عدالتِ عظمیٰ پاکستان کے حکم پر قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) نے قومی احتساب بیورو( نیب) کو وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی ہے۔جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کی ہے اوران سے تفصیلی انٹرویوز کیے ہیں۔ اس کے بعد اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ شریف خاندان کے آمدن کے معلوم ذرائع اور ان کی حقیقی دولت میں بہت زیادہ فرق پایا گیا ہے۔

جے آئی ٹی نے سوموار کی شام اپنی تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجات میڈیا کے لیے جاری کیے ہیں اور اس میں نیب کے آرڈی ننس مجریہ 1999ء کی شق 9 کے تحت وزیراعظم نواز شریف ،ان کے دونوں بیٹوں حسین نواز ، حسن نواز اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی ہے۔

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیراعظم ،ان کے دونوں بیٹے اور بیٹی اپنے اثاثوں اور رقوم کا ٹھوس ثبوت مہیا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔رپورٹ میں وزیراعظم میاں نواز شریف کو مدعا علیہ ایک ، ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو مدعا علیہ 6، بڑے بیٹے حسین نواز کو مدعا علیہ 7 اور چھوٹے بیٹے حسن نواز کو مدعا علیہ 8 قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق :’’سعودی عرب میں قائم کمپنی ہل میٹلز اسٹیبلشمنٹ ،برطانیہ میں قائم کمپنی فلیگ شپ انویسٹمنٹ لیمٹڈ وغیرہ اور متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنی کیپٹل ایف زیڈ ای کے کھاتوں سے مدعا علیہ نمبر ایک اور مدعا علیہ نمبر سات کے کھاتوں میں بنک قرضوں اور تحائف کی شکل میں غیر روایتی انداز میں رقوم منتقل کی گئی تھیں۔

ٹیم نے کہا ہے کہ اس تحقیقات کے دوران میں متعدد آف شور (بے نامی) کمپنیوں کا سراغ ملا ہے اور ان کا برطانیہ میں ان مدعا علیہان کے کاروباروں سے تعلق ثابت ہوا ہے۔ان کمپنیوں کو برطانیہ میں رقوم کی منتقل کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔پھر ان سے برطانیہ میں مہنگی جائیدادیں خرید کی گئی تھیں۔ان فنڈز کو برطانیہ ،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں بھی منتقل کیا گیا تھا مگر مدعا علیہان ایک اور سات ان رقوم کے ذرائع کے بارے میں بتانے میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ کے ایک حصے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف نے گلف اسٹیل ملز کے معاملات سے متعلق وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کے بیانات کو مسترد کردیا ہے۔ طارق شفیع نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اپریل 1980ء میں الاہلی اسٹیل ( گلف اسٹیل ملز ) کے پچیس فی صد حصص ایک کروڑ بیس لاکھ درہم میں فروخت کیے گئے تھے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا تھا اور نہ اس کا کوئی ریکارڈ ملا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے حکام نے مزید کہا ہے کہ انھیں سنہ 2001ء اور 2002ء میں الاہلی اسٹیل ملز کی ا سکریپ مشینری کی دبئی سے جدہ حمل ونقل کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا ہے اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ مذکورہ دونوں برسوں کے دوران میں کوئی اسکریپ مشینری دبئی سے جدہ بھیجی ہی نہیں گئی تھی۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی پیش رفت کی نگرانی کرنے والی سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے ابھی اس رپورٹ کا جائزہ نہیں لیا ہے۔اس بینچ کا آیندہ سوموار کو اجلاس ہوگا اور وہ اس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کوئی فیصلہ دے گی۔اس بینچ میں سپریم کورٹ کے جج جناب جسٹس شیخ عظمت سعید ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس اعجاز افضل خان شامل ہیں۔ان تینوں جج صاحبان ہی نے پاناما گیٹ اسکینڈل کا اکثریتی فیصلہ جاری کیا تھا اور وزیراعظم اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا تاکہ تمام معاملات کی مکمل چھان بین کے بعد درست حقائق سامنے آ سکیں۔