کسی کے مطالبے پر استعفیٰ نہیں دوں گا: وزیراعظم نواز شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ سازشیوں کے گروپ کے مطالبے پر اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوں گے۔وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس میں ان کے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

تین روز قبل مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی ( جے آئی ٹی) کی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد سے حزب اختلاف کی جماعتیں میاں نواز شریف سے وزارت عظمیٰ کا منصب چھوڑنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو الزامات ،مفروضوں اور قیاس آرائیوں کا مجموعہ قرار دیا ہے۔

انھوں نے گذشتہ دو روز کے دوران میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اپنے قریبی مشیروں اور کابینہ کے ارکان سے مشاورت کی ہے اور اس کے بعد انھوں نے کسی بھی شخص کے مطالبے پر وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔کابینہ کے ارکان نے اجلاس میں وزیراعظم کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ پاناما پیپرز کیس میں خود کو بری الذمہ قرار دلوانے کے لیے قانونی جنگ لڑیں۔

انھوں نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے اجراء کے بعد شور وغوغا کرنے والی حزب اختلاف کی جماعتوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے گذشتہ عام انتخابات میں ان کے مجموعی ووٹوں سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔

میاں نواز شریف نے کہا:’’ پاکستان کے عوام نے مجھے وزیراعظم منتخب کیا تھا اور وہی مجھے اس عہدے سے ہٹا سکتے ہیں‘‘۔ انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں جو الزامات عاید کیے ہیں ، وہ ان کے خاندان کے ذاتی کاروبار سے متعلق ہیں جبکہ انھوں نے سیاست میں آنے کے بعد کمایا کچھ نہیں بلکہ گنوایا بہت کچھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں اربوں روپے مالیت کے منصوبے جاری ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک میں بھی بدعنوانی کا ثبوت نہیں ملا۔انھوں نے اپنے مخالفین کو چیلنج کیا کہ 1985ء کے بعد ان کے خاندان اگر ایک پیسے کی بھی کرپشن ہے تو وہ اس کا ثبوت پیش کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں متعصبانہ اور سوقیانہ زبان استعمال کی گئی ہے جبکہ ان کے خاندان نے قانون اور آئین کی بالا دستی کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ تعاون کیا تھا۔

واضھ رہے کہ عدالتِ عظمیٰ پاکستان کے حکم پر قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے قومی احتساب بیورو( نیب) کو وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی ہے۔جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کی ہے اوران سے تفصیلی انٹرویوز کیے ہیں۔ اس کے بعد اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ شریف خاندان کے آمدن کے معلوم ذرائع اور ان کی حقیقی دولت میں بہت زیادہ فرق پایا گیا ہے۔

جے آئی ٹی نے سوموار کی شام جاری کردہ اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف ،ان کے دونوں بیٹے حسین نواز ، حسن نواز اور ان کی بیٹی مریم نواز اپنے اثاثوں اور رقوم کا ٹھوس ثبوت مہیا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے سابق قطری وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم آل ثانی کے سپریم کورٹ میں پیش کردہ دو خطوط کی پڑھے بغیر ہی تصدیق کردی تھی۔رپورٹ میں میاں نواز شریف کے داماد ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو ناقابل اعتبار ، دھوکے باز اور بددیانت قرار دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں