.

’’عدالتِ عظمیٰ وزیراعظم کے اثاثوں کی تفصیل کی پہلے دن سے منتظر‘‘

وزیراعظم موقع ملنےکے باوجود کچھ بھی بیان یا ظاہر کرنے کو تیار نہیں: جسٹس اعجازالاحسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کی پاناما پیپرز کیس کی سماعت کرنے والی بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا ہے’’ ہم پہلے دن سے وزیراعظم نواز شریف کی رقوم کی منتقلی کی تفصیل اور آمدن کے ذرائع منکشف ہونے کا انتظار کررہے ہیں‘‘۔

بینچ کے روبرو آج منگل کے روز وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل پیش کیے ہیں ۔انھوں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ اور اس کے حاصلات پر اعتراضات کیے ہیں اور اس کو ’’ ناقابل اعتبار‘‘ اور ’’ گمراہ کن‘‘ قرار دیا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سوموار کو دو ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد اس کیس کی دوبارہ سماعت شروع کی تھی۔بینچ کے رکن جسٹس اعجازالاحسن نے آج وکلاء کے دلائل کے دوران کہا ہے کہ وزیراعظم نے موقع ملنے کے باوجود ہمیں کچھ نہیں دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ان (نوازشریف) سے ان کی تقریر کے بارے میں پوچھا گیا تھا لیکن انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔جب ان سے لندن کے فلیٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے یہ جواب دیا کہ وہ کچھ نہیں جانتے ہیں۔ان کی سوچ شاید یہ ہے کہ کچھ بھی قبول نہ کرو اور کچھ بھی ظاہر نہ کرو‘‘۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ شریف خاندان کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات قانونی اعتراضات پر مبنی ہیں ۔جے آئی ٹی کی رائے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ اس کی بنیاد پر کوئی شفاف ٹرائل نہیں ہوسکتا۔

جسٹس اعجاز افضل نے اس کے جواب میں کہا کہ جج صاحبان جے آئی ٹی کی رائے کو نہیں دیکھیں گے بلکہ وہ رپورٹ کے مندرجات کو ملحوظ رکھیں گے۔ اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’’رپورٹ کے جائزے اور ثبوت کو دیکھنے کے بعد ہم یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا اس کیس کو قومی احتساب بیور (نیب) کو بھیجا جائے یا پھر سپریم کورٹ وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق ازخود کوئی فیصلہ کرے گی‘‘۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کا اپنے خاندان کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہے اور انھوں نے 2007ء میں شریف خاندان کے اثاثوں کی تقسیم کے عمل میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کردی ہے اور وزیراعظم کی قانونی ٹیم اپنے دلائل جاری رکھے گی۔

شریف خاندان کے وکیل نے جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے گذشتہ روز اپنے اعتراضات دائر کیے تھے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل نے الگ سے بھی اپنے اعتراضات جمع کرائے تھے اور ان میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ٹیم نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے وزیراعظم کے خلاف پندرہ مقدمات دوبارہ کھولنے کی سفارش کی ہے جبکہ ان میں سے پانچ کا پہلے ہی فیصلہ ہوچکا ہے۔