.

عدالتِ عظمیٰ : پاناما پیپرز کیس کا تاریخی فیصلہ جمعہ کو ساڑھے گیارہ بجے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے جمعہ کی دوپہر ساڑھے گیارہ بجے پاناما پیپرز کیس کا تاریخی فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 21 جولائی کو درخواست گزاروں اور مدعاعلیہان کے وکلاء کے دلائل کے بعد اس کیس سماعت مکمل کر لی تھی اور فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے شریف خاندان کے اثاثوں اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے بعد عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ اب عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ اسی رپورٹ اور اس پر فریقین کے دلائل پر مبنی ہوگا ۔

عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق پاناما پیپرز کیس کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی بینچ حتمی فیصلہ سنائے گی۔عدالتِ عظمیٰ کے سینیر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں یہ بینچ جسٹس اعجاز افضل خان ، جسٹس گلزار احمد ،جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تھی۔اس بینچ کے دو ارکان نے اس سے پہلے وزیراعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ دیا تھا اور تین جج صاحبان نے ان کے حق میں رائے دی تھی۔

پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے وقت عدالتِ عظمیٰ میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ رینجرز اور ایف سی کے اضافی اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور کسی بھی غیر مجاز شخص کو عدالت عظمیٰ کی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

قبل ازیں سپریم کورٹ کے سینیر جج جناب جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاناما پیپرز کیس پر قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی پیش کردہ رپورٹ پر فریقین کے دلائل کی سماعت کی تھی۔بینچ کے دوسرے ارکان جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن تھے۔ ان تینوں جج صاحبان ہی نے پاناما گیٹ اسکینڈل کا اکثریتی فیصلہ جاری کیا تھا اور وزیراعظم اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا تاکہ تمام معاملات کی مکمل چھان بین کے بعد درست حقائق سامنے آ سکیں۔

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے قومی احتساب بیورو( نیب) کو وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی تھی۔جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کی ہے اوران سے تفصیلی انٹرویوز کیے تھے۔ اس کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ شریف خاندان کے آمدن کے معلوم ذرائع اور ان کی حقیقی دولت میں بہت زیادہ فرق پایا گیا ہے۔

جے آئی ٹی نے نیب کے آرڈی ننس مجریہ 1999ء کی شق 9 کے تحت وزیراعظم نواز شریف ،ان کے دونوں بیٹوں حسین نواز ، حسن نواز اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی تھی اور قرار دیا تھا کہ وزیراعظم ،ان کے دونوں بیٹے اور بیٹی اپنے اثاثوں اور رقوم کا ٹھوس ثبوت مہیا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ٹیم کے مطابق اس تحقیقات کے دوران میں متعدد آف شور (بے نامی) کمپنیوں کا سراغ ملا ہے اور ان کا برطانیہ میں ان مدعا علیہان کے کاروباروں سے تعلق ثابت ہوا ہے۔ان کمپنیوں کو برطانیہ میں رقوم کی منتقل کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔پھر ان سے برطانیہ میں مہنگی جائیدادیں خرید کی گئی تھیں۔ان فنڈز کو برطانیہ ،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں بھی منتقل کیا گیا تھا مگر مدعا علیہان ایک اور سات ان رقوم کے ذرائع کے بارے میں بتانے میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ کے ایک حصے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف نے گلف اسٹیل ملز کے معاملات سے متعلق وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کے بیانات کو مسترد کردیا ہے۔ طارق شفیع نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اپریل 1980ء میں الاہلی اسٹیل ( گلف اسٹیل ملز ) کے پچیس فی صد حصص ایک کروڑ بیس لاکھ درہم میں فروخت کیے گئے تھے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا تھا اور نہ اس کا کوئی ریکارڈ ملا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے حکام نے مزید کہا تھا کہ انھیں سنہ 2001ء اور 2002ء میں الاہلی اسٹیل ملز کی ا سکریپ مشینری کی دبئی سے جدہ حمل ونقل کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا ہے اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ مذکورہ دونوں برسوں کے دوران میں کوئی اسکریپ مشینری دبئی سے جدہ بھیجی ہی نہیں گئی تھی۔