.

نیب کاشریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرینس دائر کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان عرفان نعیم منگی کو عدالت عظمیٰ کے 28 جولائی کے پاناما پیپرز کیس کے تاریخی فیصلے پر عمل درآمد کی ذمے داری سونپی ہے اور انھیں سبکدوش وزیراعظم میاں نواز شریف ، ان کے بیٹو ں حسین اور حسن نواز اور بیٹی مریم نواز ،داماد محمد صفدر اور سابق وزیر خزانہ اور سمدھی اسحاق ڈار کے خلاف ریفرینس دائر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ان تمام شخصیات کے علاوہ شیخ سعید ، موسیٰ غنی ، کاشف مسعود قاضی ، جاوید کیانی ، سعید احمد اور دوسرے ان تمام افراد کے خلاف بھی بدعنوانیوں کے الزامات میں ریفرینس دائر کیے جائیں گے جن کا شریف خاندان کی مبینہ بدعنوانیوں کے لیے کارروائیوں میں کسی نہ کسی قسم کا کوئی تعلق رہا ہے۔

عرفان نعیم منگی نیب کے گریڈ بیس کے افسر ہیں اور وہ شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ اور بدعنوانیوں کے دوسرے الزامات کی تحقیقات کرنے والی پانچ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) میں بھی شامل تھے۔ وہ وائٹ کالر کرائم کی تفتیش وتحقیق میں مہارت کے حامل ہیں۔انھیں عدالت عظمیٰ کے تاریخی فیصلے پر عمل درآمد کرانے کی ذمے داری سونپنے کا فیصلہ نیب کے چئیرمین چودھری قمر الزمان کے زیر صدارت سوموار کے روز اسلام آباد میں ایک اجلاس میں کیا گیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں میاں نواز شریف ،ان کے بچوں ، داماد اور سمدھی اسحاق ڈار کے خلاف چھے ہفتوں میں بدعنوانیوں کے الزامات میں ریفرینس دائر کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بھی ہدایت کی تھی کہ ان پر چھے ماہ میں سماعت مکمل کر کے فیصلہ سنایا جائے ۔

نیب نے شریف خاندان کے خلاف لندن کے علاقے مے فئیر میں واقع چار فلیٹو ں 16 ، 16 اے ، 17 اور 17 اے کی مشتبہ خرید و ملکیت پر بدعنوانی کا ریفرینس دائر کرنے کی منظوری دی ہے۔اس کے علاوہ ان کے خلاف عزیزیہ اسٹیل کمپنی اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ (دبئی) کے معاملے پر ایک ریفرنس دائر کیا جائے گا۔تیسرا ریفرنس شریف خاندان کی بیرون ملک ملکیتی سولہ کمپنیوں سے متعلق ہے۔

تاہم نیب نے شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کے معاملے پر ریفرنس دائر کرنے کی منظوری نہیں دی ہے اور ا س کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس کیس کا پہلے ہی عدالت عالیہ لاہور فیصلہ کرچکی ہے۔

بدعنوانی کا چوتھا ریفرینس سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف دائر کیا جائے گا۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں یہ کہا تھا کہ ان کے اثاثوں اور آمدن میں بہت زیادہ فرق پایا گیا ہے اور ان کی دولت میں مختصر وقت میں 91 فی صد اضافہ ہوا تھا اور وہ یک دم 90 لاکھ سے 83 کروڑ تک جا پہنچی تھی۔نیب کے ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ان افراد کے خلاف ریفرینس جے آئی ٹی کے اکٹھے کیے گئے مواد اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے پاس دستیاب مواد کی بنیاد پر تیار کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ عدالتِ عظمیٰ پاکستان کے حکم پر قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے قومی احتساب بیورو کو میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی تھی۔جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کی تھی اورمذکورہ پانچوں شخصیات سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ اس کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ شریف خاندان کے آمدن کے معلوم ذرائع اور ان کی حقیقی دولت میں بہت زیادہ فرق پایا گیا ہے۔

جے آئی ٹی نے پنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف ،ان کے دونوں بیٹے حسین نواز ، حسن نواز اور ان کی بیٹی مریم نواز اپنے اثاثوں اور رقوم کا ٹھوس ثبوت مہیا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔رپورٹ میں میاں نواز شریف کے داماد ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو ناقابل اعتبار ، دھوکے باز اور بددیانت قرار دیا گیا ہے۔

اسی رپورٹ کی بنیاد پر عدالتِ عظمیٰ نے میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا اور یہ قرار دیا تھا کہ انھوں نے دبئی میں قائم کمپنی میں اپنی ملازمت کو چھپایا تھا ۔اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے ہیں۔عدالت کے فیصلے کے بعد میاں نواز شریف نے وزارت عظمیٰ چھوڑ دی تھی۔