.

کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن خاموش رہوں گا: میاں نواز شریف

اب تک کسی عدالت نے نواب اکبر بگٹی کے قتل کے ذمے دار کا احتساب نہیں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سبکدوش وزیر اعظم حکمراں مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کے پاس انھیں اقتدار سے نکال باہر کیے جانے سے متعلق کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن وہ اس موضوع پر اب کچھ کہنا نہیں چاہتے اور خاموش رہنا چاہتے ہیں۔

وہ ہفتے کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کررہے تھے۔انھیں 28 جولائی کو عدالت عظمیٰ نےپاناما پیپرز کیس کے فیصلے میں نا اہل قرار دے دیا تھا اور وہ وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد مری چلے گئے تھے جہا ں سے وہ آج اسلام آباد پہنچے ہیں اور وہ کل لاہور جائیں گے جہاں وہ اپنے حامیوں کی ایک ریلی سے خطاب کریں گے۔

عدالت عظمیٰ نے میاں نواز شریف کو اپنے بیٹے حسین نواز کی دبئی میں قائم ایک فرم سے اپنی قابل وصول تن خواہ وصول نہ کرنے پر نااہل قرار دیا تھا اور ان پریہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی اس ملازمت کا الیکشن کمیشن کے ہاں جمع کرائے گئے گوشواروں میں ذکر نہیں کیا تھا۔اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے تھے۔

سبکدوش وزیراعظم نے صحافیوں سے گفتگو میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’’میں ایک ایسی تن خواہ کو کیسےظاہر کر سکتا ہوں جس کو میں نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے وصول ہی نہیں کیا تھا‘‘۔

انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے خلاف عاید کیے جانے والے بدعنوانیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد (مرحوم میاں محمد شریف ) کی کمپنی کے ریکارڈ سے لے کر آج تک ان کےخلاف کرپشن کاکوئی ثبوت تلاش نہیں کیا جاسکتا ہے۔

میاں نواز شریف نے خبردار کیا کہ اگر ملک کو درست راستے پر نہیں چلنے دیا جاتا تو پھر طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوگا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت خوش حالی کی راہ پر چل رہا ہے اور وہ ترقی جاری رکھے گا۔

انھوں نے ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زوردیا اور کہا کہ انھوں نے سنہ 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں حزب اختلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبہ سندھ میں مینڈیٹ کو تسلیم کیا تھا اور انھوں نے (عمران خان کی جماعت ) تحریک انصاف کے اسلام آباد میں حکومت مخالف دھرنوں کے دوران میں بھی کوئی سخت موقف اختیار نہیں کیا تھا۔

میاں نواز شریف نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے انھیں چیلنج کیا کہ وہ پاکستان واپس آئیں۔ریٹائرڈ جنرل مشرف نے اس انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں آمریت جمہوریت کے مقابلے میں بہتر ریکارڈ کی حامل رہی ہے۔

انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ’’ جنرل مشرف میرے ساتھ بھی قومی مفاہمتی آرڈی ننس ( این آر او) پر دستخط کرنا چاہتے تھے اور مجھے کئی مرتبہ یہ کہا گیا کہ میں ان سےاس مقصد کے لیے ملاقات کروں لیکن میں نے اس کے بجائے شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر 1999ء میں جنرل مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد ان کی جلاوطنی ان کے لیے ایک امتحان بھی تھی اور انھوں نے اس دور میں بہت کچھ سیکھا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھتے رہنا چاہیے لیکن بظاہر لگتا ہے کہ ملک نے 1971ء میں بنگلہ دیش کی علاحدگی کے بعد سے کچھ نہیں سیکھا ہے۔

ملک کی حکمراں جماعت کے سربراہ نے یہ استفسار کیا کہ ’’کیا عدالتیں کبھی کسی آمر کا اس کے اقدامات پر احتساب کریں گی۔ کیونکہ اب تک تو کسی نے نواب اکبر بگٹی کے قتل کے ذمے دار کا کوئی احتساب نہیں کیا ہے‘‘۔