.

ای سی پی کی نواز شریف کی جگہ کسی اور کو پارٹی قائد بنانے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ( نواز) کو ایک نوٹس جاری کیا ہے اور اس کو سبکدوش وزیراعظم میاں نواز شریف کی جگہ کسی اور کو پارٹی قائد مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے آ رڈی ننس مجریہ 2002 کے تحت کوئی نااہل رکن اسمبلی کسی سیاسی جماعت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا۔اس نے عدالت عظمیٰ کے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے جس میں میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے کر وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا۔

ای سی پی نے یہ بھی نشان دہی کی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے اپنے آئین کی دفعہ 15 میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر پارٹی کے صدر کا عہدہ خالی ہوجاتا ہے تو اس کو ایک ہفتے کے اندر پُر کیا جائے گا۔ چنانچہ الیکشن کمیشن نے پی ایم ایل این سے کہا ہے کہ وہ اپنے نئے صدر کا انتخاب کرے اور اس کے بارے میں کمیشن کو اطلاع دے۔

ای سی پی کے اس نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کا اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس طلب کر لیا گیا تھا اور اس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان سمیت سینیر پارٹی رہ نما شریک تھے۔اجلاس میں پارٹی کے نئے سربراہ پر غور کیا جارہا تھا۔

دریں اثناء سبکدوش سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے ایک دو نہیں تین بار نکالا گیا ہے ،کیا کبھی عوام کے فیصلے کا احترام بھی ہوگا؟یا ہمیشہ ان کے مینڈیٹ کو ذلیل و رسوا کیا جائے گا۔ ایک سوال پر انووں نے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو ملک سے باہربھیجنے کا فیصلہ ہمارا نہیں، عدلیہ کا تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ جی ٹی روڈ کے ذریعے قافلے کی صورت میں لاہور جارہے ہیں، مگر کافی خطرات بھی ہیں، اس پر میاں نواز شریف نے کہا کہ میں تو اپنے گھر جارہا ہوں ہم نے کبھی انتشارکی سیاست نہیں کی ۔ میں آرام سے گھر نہیں بیٹھوں گا۔جب میں جلاوطن تھا تو تب بھی کہنے والوں نے کہا کہ نوازشریف کا سیاسی کیریئر ختم ہوگیا مگر ایسا نہیں ہوا اور اب بھی ایسا نہیں ہوگا۔میں بھر پور طریقے سے باہر آؤں گا۔ریلی کی قیادت کروں گا۔ایک بھر پور سیاسی مہم چلائی جائے گی اس کے لیے کارکن تیار ہوجائیں۔ ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ کے اندر اور اس کے باہر بھی ایک بڑی بحث ہوتاکہ اب کسی وزیراعظم کو اس طرح سے گھر بھیجا نہ جاسکے ۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ نااہلی کے فیصلے کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی جارہی ہے اس پر ہر زاویے سے غور کیا جارہا ہے۔ آئین میں ترمیم پر بھی غور کیا جائے گا۔ نوازشریف نے کہا کہ یہ کوئی پاور شونہیں ہے مجھے گھر بھیجا گیا ہے اور میں گھر جارہاہوں ۔ طاہر القادری کی ریلی کے بارے میں سوال میں انھوں نے کہا کہ جو بھی سیاسی مہم ہورہی ہے، وہ الیکشن کی طرف جارہی ہے ۔ مسلم لیگ ن ہر چیز کے لیے تیار ہے۔انورں نے کہا کہ 20کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم اس طرح ذلیل و رسوا نہیں کرنا چاہیے۔ پہلی مرتبہ صدر نے نکالا ، دوسری مرتبہ آمرنے ہائی جیکر بنادیا۔تیسری مرتبہ بیٹے کی کمپنی سے تن خواہ نہ لینے پر عدلیہ نے مجھے نکال دیا ۔ اب تک ملک کے اٹھارہ وزراء اعظم گزرے ہیں لیکن کسی ایک کو بھی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی ۔