.

امریکا : کشمیری حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین دہشت گرد قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے بھارت کے زیر انتظام متنازع ریاست کشمیر سے تعلق رکھنے والی حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے بدھ کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے اس گروپ کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔اس کے اگر امریکا میں کوئی اثاثے ہیں ،تو انھیں منجمد کر لیا گیا ہے اور امریکیوں پر اس تنظیم سے کسی قسم کا تعلق رکھنے کی ممانعت کردی گئی ہے۔

امریکا کے محکمہ خارجہ نے الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ان پابندیوں سے حزب المجاہدین کو دہشت گردی کے حملوں کے لیے درکار وسائل دستیاب نہیں ہو سکیں گے‘‘۔

محکمہ خارجہ نے حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے جموں وکشمیر میں متعدد حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی ۔ان میں 2014ء میں کیا گیا ایک حملہ بھی شامل تھا۔اس حملے میں سترہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

امریکا نے گذشتہ ماہ اس جماعت کے سربراہ سیّد صلاح الدین کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور ان کا نام دہشت گرد افراد کی فہرست میں شامل کر لیا تھا لیکن انھوں اور پاکستان نے امریکا کے اس فیصلے کو مسترد کردیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف جدوجہد کرنے والی تنظیموں یا شخصیات یا دوسرے جنگجو گروپوں کو دہشت گرد قرا ر دینے کا مقصد ان کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی کو روکنا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے اگست 1947ء میں تقسیم کے وقت مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کے ایک بڑے حصے پر فوجی مداخلت کرکے قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس نے تقسیم یا پاکستان اور بھارت میں کسی ایک کے ساتھ ریاستوں کے الحاق کے لیے ریڈکلف ایوارڈ کے طے شدہ فارمولے کو یکسر مسترد کردیا تھا اور اس کے مطابق وہاں استصواب رائے کے انعقاد سے انکار کردیا تھا۔ریاست پر بھارت کے مسلسل کنٹرول کے خلاف 1989ء میں مقامی نوجوانوں نے مسلح جدوجہد شروع کردی تھی۔بھارت نے اس جدوجہد کو بزور کچلنے کے لیے سات لاکھ کے لگ بھگ فوج ریاست میں تعینات کردی تھی ۔

حزب المجاہدین اور دوسری تنظیمیں گذشتہ28 سال سے بھارتی قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد کررہی ہیں اور ان کی آئے دن بھارتی فورسز سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ بھارت پاکستان پر ان علاحدگی پسند تنظیموں کو مادی امداد مہیا کرنے کے الزامات عاید کرتا رہتا ہے جبکہ پاکستان ان الزامات کی ایک سے زیادہ مرتبہ تردید کرچکا ہے ۔تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ کشمیریوں کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی امداد جاری رکھے گا۔