.

پاکستان کی مسیحا ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی مدر ٹریسا ڈاکٹر رُتھ فاؤ کو کراچی میں ہفتے کے روز سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

جرمن نژاد پاکستانی شہری ستاسی سالہ مرحومہ ڈاکٹر نے اپنی ساری زندگی جذام ( کوڑھ) کے مرض میں مبتلا افراد کے علاج کے لیے وقف کردی تھی۔وہ اسی ماہ کے اوائل میں انتقال کر گئی تھیں۔وہ کراچی میں جذام کے مریضوں کے علاج کے لیے قائم میری ایڈی لیڈ لیپراسی سنٹر کے بانیوں میں سے تھیں۔

کیتھولک نن کی آخری رسوم کراچی صدر کے علاقے میں واقع سینٹ پیٹرک کیتھڈرل میں ادا کی گئیں۔مسلح افواج کے جوانوں نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا اور وہی ان کا تابوت اٹھائے ہوئے تھے۔ان کا تابوت پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا تھا اور اوپر گلاب کے پھولوں کی پتیاں رکھی تھیں۔

چرچ میں آخری رسوم کے بعد انھیں کراچی کے قدیم گورا قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ ان کی تدفین کے موقع پر پاکستان کے صدر ممنون حسین ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ، ائیر چیف مارشل سہیل امان ، بحریہ کے نائب سربراہ وائس ایڈمرل ظفر محمود عباسی ، صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور گورنر محمد زبیر موجود تھے۔انھوں نے ڈاکٹر فاؤ کی قبر پر اپنی پانی جانب سے پھول چڑھائے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قبل ازیں ڈاکٹر فاؤ کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ پوری قوم ملک سے جذام کے مرض کے خاتمے کے لیے ڈاکٹر فاؤ کی بے لوث اور ناقابل فراموش خدمات کی مقروض ہے۔

پاکستان میں گذشتہ انتیس سال میں انسانیت کی خدمت میں اپنی زندگی بتانے والی کسی دوسری شخصیت کی یہ سرکاری سطح پر تجہیز و تکفین ہے۔ گذشتہ سال پاکستان کے عظیم سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ کراچی ہی میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر فاؤ کی آخری رسوم میں سول سوسائٹی کے ارکان اور ان کے سیکڑوں مداحوں اور ہزاروں شہریوں نے شرکت کی ہے اور انھیں ان کی شاندار خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ڈاکٹر فاؤ کے ساتھ جذام سنٹر میں کام کرنے والی نن مارتھا فرنانڈو نے ان کی موت کو انسانیت کے لیے ایک عظیم نقصان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے اور ان کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا ہے۔

دریں اثناء صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ڈاکٹر فاؤ کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کے بعد کراچی کے سول اسپتال کو ان کے نام سے موسوم کرنے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاؤ سندھ اور پاکستان کا فخر ہیں۔ طب کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اب سول اسپتال کا نام ڈاکٹر رُتھ کے ایم فاؤ سول اسپتال کراچی رکھ دیا گیا ہے اور صوبائی محکمہ صحت نے اس ضمن میں ایک نوٹی فیکشن جاری کردیا ہے۔

یادرہے کہ ڈاکٹر فاؤ جرمنی میں پیدا ہوئی تھیں۔ انھیں ننوں پر مشتمل ایک تنظیم ’’ ڈاٹرز آف دا ہارٹ آف میری‘‘ (مریم کی بیٹیاں) کی جانب سے 1960ء میں پاکستان بھیجا گیا تھا۔ وہ اس تنظیم کی تعلیمی زمانے سے رکن تھیں۔ انھوں نے کراچی میں کوڑھ کے مریضوں کا علاج شروع کیا تھا اور اس کے لیے مذکورہ بالا اسپتال قائم کیا تھا۔

ڈاکٹر فاؤ نے گذشتہ پانچ عشروں کے دوران میں کوڑھ کے مرض کے پاکستان سے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔اس مقصد کے لیےانھوں نے پاکستان کو مستقل طور پر اپنا وطن بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے انھیں 1979ء میں ہلال ِامتیاز کے اعزاز سے نوازا تھا اور 1988ء میں انھیں پاکستان کی شہریت دے دی تھی۔1989ء میں حکومت نے انھیں ہلال پاکستان کے اعزاز سے نواز تھا۔ان کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان سے جذا م کا مرض مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے 1996ء میں پاکستان کو جذام سے پاک قرار دے دیا تھا۔

کراچی میں ننیں ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آخری رسوم میں شرکت کے لیے آرہی ہیں۔
کراچی میں ننیں ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آخری رسوم میں شرکت کے لیے آرہی ہیں۔
   کراچی صدر میں واقع سینٹ کیتھڈرل میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آخری رسوم ادا کی جارہی ہیں۔
کراچی صدر میں واقع سینٹ کیتھڈرل میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آخری رسوم ادا کی جارہی ہیں۔