.

بے نظیر قتل کیس : 5 ملزمان بری ، 2 پولیس افسروں کو 17 ،17سال قید

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو مفرور قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

راول پنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔عدالت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے پانچ ملزمان کو بری کردیا ہے،دو پولیس افسروں کو سترہ ،سترہ سال قید کی سزا سنائی ہے اور سابق صدر پرویز مشرف کو مفرور قرار دے دیا ہے۔

بے نظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو راول پنڈی کے لیاقت باغ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے بعد بم دھماکے میں شہید ہوگئی تھیں۔عدالت نے اس وقت راول پنڈی کے پولیس سربراہ سعود عزیز اور راول ٹاؤن کے سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) خرم شہزاد کو سکیورٹی انتظامات میں اپنے فرائض سے غفلت اوربے پروائی کا ذمے دار قرار دیا تھا۔یہ دونوں سابق افسر2011ء سے ضمانت پر رہا تھے لیکن اب انھیں گرفتار کیا جاچکا ہے۔

عدالت نے ان دونوں سابق پولیس افسروں کو پاکستان کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 119 کے تحت دس ،دس سال قید اور دفعہ 201 کے تحت سات، سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے ان پر پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عاید کیا ہے اور جرمانے کی عدم ادائی کی صورت میں انھیں مزید چھے، چھے ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

عدالت نے ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے پانچ مشتبہ افراد رفاقت حسین ، حسنین گل ، شیر زمان ، اعتزاز شاہ اور عبدالرشید کو تمام الزامات سے بری کردیا ہے۔

عدالت نے حکام کو سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔استغاثہ میں انھیں بھی بے نظیر بھٹو کے قتل کے واقعے کا ذمے دار قرار دیا گیا تھا اور وہ عدالت کے بار بار طلب کرنے کے باوجود پیش نہیں ہوئے تھے۔ان کے وکیل نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی جان کو القاعدہ سے خطرہ ہوسکتا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کو ئی ایک عشرے تک اس مقدمے کی سماعت کی ہے اور فریقین کے وکلاء کے دلائل سنے اور گواہوں کے بیانات قلم بند کیے ہیں۔ اس نے بدھ کو اس کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور یہ آج جمعرات کو سنایا ہے۔