.

الیکشن کمیشن : عمرا ن خان کے قابلِ ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری

ایک لاکھ روپے مالیت کے ضمانتی مچلکےجمع کرانے اور 25 ستمبر کو پیش ہونے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک ِانصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کے قابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے ہیں ۔ انھیں ایک لاکھ روپے مالیت کے ضمانتی مچلکےجمع کرانے کا حکم دیا ہے اور انھیں 25 ستمبر کو کمیشن کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف جمعرات کو توہین عدالت کیس کی سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا ہے۔ان کے خلاف غیر ملکی فنڈز کی تفصیل فراہم کرنے سے متعلق یہ کیس پی ٹی آئی کے ایک بانی مگر منحرف رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔

عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کمیشن کے روبرو اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’’ان کے موکل آج ایک گھنٹا قبل ہی بیرون ملک سے وطن لوٹے ہیں۔وہ الیکشن کمیشن کا احترام کرتے ہیں ۔وہ جب بھی انھیں طلب کرے گا، وہ اس کے روبرو پیش ہوجائیں گے‘‘۔

اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔اگر عمران خان کو اداروں کا احترام ہوتا تو اس وقت وہ یہاں موجود ہوتے۔انھوں نے کمیشن سے استدعا کی کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی ضابطے کی کارروائی کی جائے۔

اس پر الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کیس میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا اور پی ٹی آئی کے سربراہ کے خلاف قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ گذشتہ ماہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو اظہار وجوہ کا دوسرا نوٹس جاری کیا تھا کیونکہ وہ اپنے خلاف توہین عدالت کیس کی کارروائی میں پہلے نوٹس کا جواب دینے میں ناکام رہے تھے۔

عمران خان نے قبل ازیں اپنے خلاف توہین عدالت کی درخواست کو چیلنج کیا تھا اور الیکشن کمیشن کے توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے دائرہ اختیار پر اعتراضات کیے تھے۔تاہم الیکشن کمیشن نے 10 اگست کو قرار دیا تھا کہ اس کو توہین عدالت کے کیس کی سماعت کا قانونی اختیار حاصل ہے۔اس کے بعد اس نے پی ٹی آئی کے چیئرمین کو باضابطہ اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا اور 23 اگست تک اس کا جواب دینے کی ہدایت کی تھی۔

عمران خان نے الیکشن کمیشن پاکستان پر تحریک انصاف کی غیرملکی فنڈنگ سے متعلق اس کیس میں متعصب ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔اس پر ان کے وکیل نے کمیشن کے روبرو معافی نامہ داخل کردیا تھا لیکن خود عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے وکیل نے ذاتی حیثیت میں یہ معافی مانگی ہے اورانھوں نے اپنے بیان پر معذرت نہیں کی ہے۔