مشعال خان قتل کیس: انسداد دہشت گردی عدالت میں 57 ملزمان پر فرد ِ جُرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشعال خان قتل کیس میں ملوث ستاون افراد کے خلاف فرد جرم عاید کردی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ہری پور کی سنٹرل جیل میں اس مشہور مقدمے کی سماعت کی ہے۔ مشعال خان کو بے دردی اور سفاکانہ انداز میں قتل کرنے کے واقعے کے الزام میں گرفتار افراد بھی اسی جیل میں زیر حراست ہیں۔انھوں نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

اس مقدمے کی دوسری سماعت کل بدھ کو ہوگی اور وکیل استغاثہ اور وکیل صفائی اپنے اپنے دلائل دیں گے۔مقتول مشعال خان کے والد اقبال خان بھی عدالت میں پیش ہوں گے۔

واضح رہے کہ اپریل میں مردان میں خان عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک مشتعل ہجوم نے ابلاغ عامہ کے طالب علم مشعال خان کو وحشیانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بنا یا تھا اور اس کو گولی مار دی تھی جس سے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔مقتول پر آن لائن توہینِ مذہب پر مبنی مواد پوسٹ کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

اس واقعے کی تیرہ ارکان پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے تحقیقات کی تھی اور اس نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ یونیورسٹی کے ایک گروپ نے اس طالب علم کے خلاف توہین مذہب کے نام پر لوگوں کو مشتعل کیا تھا لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا کہ مقتول نے توہین مذہب کا کبھی کوئی ارتکاب کیا تھا۔

جولائی میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس قتل کیس کو مردان سے ہری پور کی سنٹرل جیل میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔مقتول کے والد اقبال خان نے عدالت سے اس کیس کو مردان سے کہیں اور منتقل کرنے کی استدعا کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے خاندان کی زندگیوں کو بااثر افراد سے خطرہ ہے۔

اقبال خان نے پشاور ہائی کورٹ سے یہ بھی استدعا کی تھی کہ عدالت میں مقدمے کی فیس بھی حکومت ادا کرے۔انھوں نے سپریم کورٹ سے اپنی بیٹیوں کو تحفظ مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا جو مشال خان کے قتل کے بعد سے اسکول نہیں جاسکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں