.

پاناما گیٹ کے فیصلے سے پورے ملک کو سزا دی گئی : نواز شریف

معزول وزیر اعظم احتساب عدالت میں پیش، چند منٹ کی حاضری کے بعد جانے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے معزول وزیراعظم میاں نواز شریف اپنے خلاف دائر کرپشن ریفرینسز کی پیروی کے سلسلے میں منگل کے روز اسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیش ہوگئے ہیں اور عدالت کے جج نے انھیں چند منٹ کی حاضری کے بعد ہی جانے کی اجازت دے دی۔

انھوں نے بعد میں پنجاب ہاؤس میں نیوز کانفرنس کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ان کے خلاف فیصلے کے ذریعے پورے ملک کو سزا دی جارہی ہے۔ وہ بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں ۔ہم آئین اور عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ماضی میں مجھے ہتھ کڑیاں لگائی گئیں اور گرفتار کیا گیا۔میں نے فوجی دور حکومت میں قانون اور انصاف کا نفاذ دیکھا ہے‘‘۔

انھوں نے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ وہ مجھے میرے خلاف کسی غلط کاری کا ثبوت فراہم نہ کرسکے تو انھوں نے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی ۔انھی عدالتوں او ر ججوں نے فیصلہ سنا یا اور نیب کو ریفرینس دوبارہ کھولنے کا حکم د۔ پھر اسی عدالت نے نیب کا کنٹرول سنبھال لیا اور اگر ضروری ہوا تو پھر یہی عدالت میری اپیل بھی سنے گی‘‘۔

سابق وزیراعظم کاکہنا تھا کہ ’’ اس صورت حال میں انصاف کیسے کام کرے گا۔کیا اسی کو ہم قانون کی حکمرانی کہتے ہیں؟ اور کیا آئین کی دفعہ 10 کی منشا کے مطابق یہی منصفانہ ٹرائل ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’’ یہ پہلا کیس ہے جس میں قانون درخواست گزار کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے اور دفاع کے حق کا نفاذ نہیں کیا گیا ہے جبکہ الزام ثابت نہیں ہوا ہے اور وہ کسی بدعنوانی کو ثابت نہیں کرسکے تھے۔انھوں نے مجھے نااہل قرار دینا تھا ۔اس لیے انھوں نے اس مقصد کی غرض سے اقامے کو استعمال کیا ہے‘‘۔

میاں نواز شریف نے کہا:’’ میں نے پاناما ڈرامے کا سامنا کیا۔اس کیس میں تمام بارِ ثبوت ہم پر ڈال دیا گیا۔میں نے اور میرے بچوں نے جے آئی ٹی کا سامنا کیا لیکن ایسے عناصر بھی موجود تھے جنھوں نے اپنی تحقیقات کی ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کے خلاف سپریم کورٹ بھی کوئی کارروائی نہیں کرسکتی ہے‘‘۔

انھوں نے عدالت میں اپنی پیشی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ آج میں نے احتساب عدالت کا سامنا کیا ہے اور میں صاف ہوں۔ مجھے اللہ پر یقین ہے اور پاکستان کے عوام پر بھروسا ہے اور مجھے یقین ہے کہ کہیں انصاف موجود اور زندہ ہے‘‘۔

انھوں نے اپنے خلاف عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ ’’اس کے ذریعے پورے ملک کو سزا دی جارہی ہے۔عوام اور آنے والی نسلوں کو سزا دی جارہی ہے۔ان کا جمہوریت کے راستے پر گامزن ایک ترقی پسند پاکستا ن کے لیے ٹھٹھا اڑایا گیا ہے۔میری اپیل ہے کہ ملک کو آئین کے مطابق آگے بڑھنے دیا جائے۔اگر آئین لوگوں کو حکمرانی کا حق دیتا ہے تو انھیں یہ حق دیا جائے۔عوام ہی کو کسی کو اہل اور نااہل قرار دینے کے فیصلے کا اختیار دیا جائے۔ان سے یہ حق نہ چھینا جائے۔ہماری تاریخ برے فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔اب اس تاریخ کا مداوا کیا جائے‘‘۔

عدالت عظمیٰ کے حکم پر قومی احتساب بیورو ( نیب) نے معزول وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں بدعنوانیوں کے تین ریفرینسز دائر کیے ہیں۔انھوں نے آج عدالت میں پیشی کے وقت بتایا کہ ان کی اہلیہ علیل ہیں اور لندن میں زیر علاج ہیں۔وہ تیمار داری کے لیے ان کے ساتھ تھے جس کی وجہ سے وہ پہلے پیش نہیں ہوسکے تھے۔اس کے بعد عدالت نے انھیں جانے کی اجازت دے دی۔عدالت نے انھیں اب 2 اکتوبر کو طلب کیا ہے اور اس روز ان کے خلاف تینوں الگ الگ ریفرینسز میں فرد جرم عاید کی جائے گی۔

عدالت نے میاں نواز شریف کے تینوں بچوں حسین نواز ، حسن اور مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔اس عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔عدالت نے انھیں دس، دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

احتساب عدالت میں میاں نواز شریف کی پہلی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور مقدمے کی پیروی کرنے والے نیب کے پراسیکیوٹرز کو بھی عدالت تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ حکمراں مسلم لیگ کے سینیر رہ نما اور بعض وفاقی وزراء بھی اپنے قائد کے ہمراہ عدالت میں آئے تھے۔عدالت میں مسلم لیگ کے بعض کارکنوں نے میاں نوازشریف کے حق میں نعرے بازی شروع کردی جس پر جج محمد بشیر نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا اور انھیں خاموش رہنے کی ہدایت کی۔