.

سبکدوش وزیراعظم نواز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دوبارہ سربراہ منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سبکدوش وزیراعظم میاں نواز شریف حکمراں جماعت مسلم لیگ ( ن) کے دوبارہ صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

اسلام آباد میں منگل کے روز مسلم لیگ نواز کی جنرل کونسل کے اجلاس میں میاں نواز شریف کو بلامقابلہ منتخب کیا گیاہے اور ان کے مقابلے میں کسی اور لیڈر نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے تھے ۔ان کے انتخاب سے ایک روز قبل ہی پارلیمان نے ایک بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت عدالتوں سے نااہل قرار پانے والے سیاست دان جماعت کے سربراہ بن سکتے ہیں ۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے میاں نوازشریف کو جولائی میں پاناما پیپرز کیس کے فیصلے میں اپنے اثاثے چھپانے کے الزام میں نا اہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔اب ان کے خلاف عدالت عظمیٰ کے حکم پر احتساب عدالت میں بدعنوانیوں کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے اور ان کے خلاف 9 اکتوبر کو فرد جرم عاید کیے جانے کا امکان ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے مذکورہ بل کی سخت مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں اس کی منظوری کو عدالت میں چیلنج کریں گی۔ان کا موقف ہے کہ یہ بل صرف میاں نواز شریف کو حکمراں جماعت کا صدر منتخب کرنے کے لیے منظور کیا گیا ہے۔

میاں نواز شریف نے حکمراں جماعت کا دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد تقریر میں اس قانون کی تنسیخ پر ارکان پارلیمان اور عوام کا شکریہ ادا کیا جس کے تحت عدالتوں سے نااہل سیاست دان کوئی پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتے تھے۔انھوں نے کہا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اس قانون کو بحال کیا تھا تاکہ سیاست دانوں کو قومی سیاست سے اور کیا جاسکے۔اس قانون کو ایک ایک فوجی صدر جنرل ایوب خان نے اپنے دور حکومت میں متعارف کرایا تھا۔

انھوں نے کہا کہ’’ انھیں ان کے اپنے بیٹے سے تن خواہ وصول نہ کرنے پر نااہل قرار دیا گیا تھا لیکن آئین کی خلاف ورزی کرنے والے چار آمروں کو قانونی قرار دے دیا گیا اور جنھوں نے دستوری حلف کی خلاف ورزی کی تھی،وہ صادق اور امین ہی رہے تھے‘‘۔

اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی تقریر کی اور کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے ، میاں نواز شریف کو دوبارہ جماعت کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔انھوں نے حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کو چیلنج کیا کہ ان کی حکومت کے دور میں ترقیاتی کام سابقہ حکومت سے 100 فی صد زیادہ ہوئے ہیں ۔اگر یہ بات غلط ثابت ہوتو وہ حکومت چھوڑنے کو تیار ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی حزب اختلاف کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس کے لیڈروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ صرف ایک آدمی یعنی نواز شریف کے لیے قانون میں ترمیم کی گئی ہے لیکن جب 1999ء میں ایک آدمی (جنرل پرویز مشرف) نے مارشل نافذ کیا تھا تو ان میں سے کوئی بھی نہیں بولا تھا اور یہ مارشل لا کئی سال تک نافذ رہا تھا۔انھوں نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا احتساب صرف نواز شریف کے لیے ہی ہے؟