.

صدر ٹرمپ کینیڈی، امریکی خاندان کی بازیابی پر پاکستان کے مشروط شکرگزار

پاک آرمی نے2012ء میں افغانستان میں اغوا کیے گئے جوڑے کو کرم ایجنسی سے بہ حفاظت بازیاب کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان آرمی کی ایک کارروائی میں کینیڈی ،امریکی جوڑے اور ان کے بچوں کی طالبان کی حراست سے بہ حفاظت بازیابی کو امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے لیے ایک مثبت لمحہ قرار دیا ہے۔

لیکن صدر ٹرمپ نے پاکستان کا شکرگزار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے بیان میں یہ بھی جتلا دیا ہے کہ اس کا یہ کوئی امریکا پر بڑا احسان نہیں بلکہ یہ اقدام خطے میں سکیورٹی کے لیے امریکی خواہشات کے مطابق ’’ ڈو مور‘‘ مطالبے کی پاس داری کی علامت ہے۔

قبل ازیں پاکستان آرمی نے یہ اطلاع دی تھی کہ اس نے امریکا کی جانب سے فراہم کردہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر غیرملکی یرغمالی خاندان کو طالبان کی حراست سے بازیاب کرا لیا ہے۔ان میں امریکی عورت ،اس کا کینیڈی خاوند اور ان کے تین بچے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے ان کا مسلسل سراغ لگا رہے تھے اور انھوں نے ان کی 11 اکتوبر 2017 کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے سرحدی علاقے میں افغانستان سے منتقلی کی اطلا ع دی تھی۔ اس کے بعد پاک فوج کے جوانوں اور انٹیلی جنس نے جمعرات کو مشترکہ کارروائی کرکے انھیں بازیاب کر لیا ہے اور انھیں ان کے آبائی ممالک میں واپس بھیجنے کی تیاری کی جارہی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق امریکی صدر نے عورت کی شناخت کیٹلان کولمین اور اس کے خاوند کی شناخت جوشوا بوائل کے نام سے کی ہے۔انھیں 2012ء میں افغانستان میں سفر کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا۔اغوا کے وقت اکتیس سالہ کیٹلان حاملہ تھیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ’’ مس کولمین نے دوران حراست تین بچوں کو جنم دیا ہے۔آج وہ آزاد ہیں ۔ یہ ہمارے ملک کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے لیے ایک مثبت لمحہ ہے‘‘۔

انھوں نے بیان میں مزید کہا ہے کہ’’ اس خاندان کو حقانی نیٹ ورک نے یرغمال بنا رکھا تھا۔اس دہشت گرد تنظیم کے طالبان کے ساتھ تعلقات ہیں۔ہم باقی یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے بھی اسی طرح کے تعاون اور ٹیم ورک کی توقع کرتے ہیں‘‘۔

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے اس جوڑے اور ان کے بچوں کی بازیابی پر پاکستان سے گہرے تشکر کا اظہار کیا ہے۔

بوائل اور کولمین گذشتہ سال دسمبر میں جاری کردہ ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے تھے۔اس میں ان کے ساتھ ان کے دو بچے تھے۔انھوں نے امریکا اور کینیڈا کی حکومتوں سے خود کو رہا کرانے کی اپیل کی تھی ۔انٹرنیٹ پر یہ ویڈیو ان افواہوں کے بعد جاری کی گئی تھی کہ افغان حکومت حقانی نیٹ ورک کے بانی مولانا جلال الدین حقانی کے بیٹے انس حقانی کو تختہ دار پر لٹکانے کی تیاریاں کررہی ہے۔ انھیں افغان حکام نے 2014ء میں گرفتار کیا تھا اور وہ تب سے قید ہیں۔

طالبان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے دو پروفیسروں امریکی کیون کنگ اور آسٹریلوی ٹموتھی ویکس کو یرغمال بنا رکھا ہے۔دونوں افغانستان میں امریکی یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔انھیں گذشتہ سال اگست میں نامعلوم مسلح افراد ان کی گاڑیوں سے زبردستی اتار کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔