.

کرم ایجنسی : امریکی ڈرون حملے میں پانچ افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سوموار کو مشتبہ جنگجوؤں کے ایک ٹھکانے پر امریکا کے ڈرون حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

کرم ایجنسی میں تعینات ایک مقامی افسر اور ایک انٹیلی جنس اہلکا ر کے مطابق امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے افغانستان کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں مشتبہ جنگجوؤں کے ایک مکان پر چار میزائل داغے ہیں۔انھوں نے حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ایک اور سرکاری افسر نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون حملے کا ہدف حقانی نیٹ ورک کا ایک کمانڈر ابو بکر تھا لیکن اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔اسی علاقے میں ستمبر میں ڈرون حملے میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لیے نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے۔انھوں نے اس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے انتہا پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں دے رکھی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس الزام کو سختی سے مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس ملک ،سکیورٹی فورسز اور اس کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنی قربانیاں دی ہیں،اتنی کسی اور نے نہیں دیں۔

اس ڈرون حملے سے چند روز قبل 11 اکتوبر 2017 کو کرم ایجنسی ہی میں پاک فوج کے جوانوں اور انٹیلی جنس نے مشترکہ کارروائی کرکے امریکی ،کینیڈی جوڑے اور ان کے بچوں کو طالبان جنگجوؤں کے چنگل سے چھڑا لیا تھا۔انھیں اسی روز افغانستان سے کرم ایجنسی منتقل کیا گیا تھا اور امریکی انٹیلی جنس کی فراہم کردہ اطلاع پر انھیں بازیاب کرانے کے لیے کارروائی کی گئی تھی۔

بازیاب کرائی گئی امریکی شہری کیٹلان کولمین اور اس کے خاوند جوشوا بوائل کو 2012ء میں افغانستان میں کوہ پیمائی کے لیے سفر کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا۔اغوا کے وقت اکتیس سالہ کیٹلان حاملہ تھیں۔ انھوں نے دوران حراست تین بچوں کو جنم دیا تھا۔افغانستان کے حقانی نیٹ ورک پر ان کے اغوا کا الزام عاید کیا گیا تھا اور بعد میں وہ پانچ سال تک طالبان کی قید میں رہے تھے۔