.

پاکستان کو معاشی امداد اور اسلحہ نہیں، احترام چاہیے: خواجہ آصف

امریکا وائسرائے نہیں، واشنگٹن سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں: سینٹ میں پالیسی بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکی ہمارے وائسرائے نہیں ہیں۔ ہم امریکا سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں۔ افغانستان، بھارت کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ افغانستان سے یہاں آ کر ہمارے امن کو تباہ کیا جاتا ہے۔ افغانستان کے 45 فی صد علاقے پر وہاں کی حکومت کی عمل داری ہی نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم طالبان کے کفیل نہیں۔ ماضی میں پاکستان کا افغان طالبان پر اثر ورسوخ تھا لیکن اب یہ کم ہوچکا ہے۔ طالبان کی کفالت اب کوئی اور کر رہا ہے۔ انھوں نے اپنے لیے کوئی اور ذریعہ ڈھونڈ لیا ہے۔ افغانستان کی پناہ گاہیں ان دہشت گردوں کے لیے کافی ہیں، انھیں ہماری پناہ گاہیں نہیں چاہییں۔ امریکا نے 75 ناموں کی لسٹ دی تھی۔اس میں سرفہرست حقانی نیٹ ورک ہے لیکن اس میں حافظ سعید کا نام شامل نہیں ہے۔

پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینٹ) میں پاک امریکا تعلقات پر پالیسی بیان دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات 70 سال پرانے ہیں۔ ہمارا اقتدار امریکا کا نہیں 20 کروڑ عوام کا مرہون منت ہے اور اس اقتدار کو بچانے کے لیے امریکی رضا نہیں، صرف اللہ کی رضا چاہیے۔ وہ وائسرائے نہیں ہیں۔ ہم امریکا سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکا سے بڑا سمجھوتا کیا گیا اور اس کا نتیجہ آج بھگتنا پڑ رہا ہے۔ وہ ہمیں فہرست دیتے تھے اور ہم بندے پکڑ کر انھیں بیچتے تھے۔ ماضی میں بندے بیچنے کے بدلے میں کیا کیا وصول کیا گیا۔ مناسب ہو گا اس معاملے پر ایوان میں بحث ہو، اس سے ہمیں رہنمائی ہو گی۔ پاکستان کی حکومت اور ہمارے ادارے پاکستان کے مفاد کو آخری دم تک تحفظ دیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ٹرمپ کی تقریر کے جواب میں ہم نے کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ گذشتہ روز ایک ہی میز پر بیٹھ کر سویلین اور فوجی قیادت نے مل کر امریکی وزیر خارجہ سے بات کی۔ ہم کسی بھی مرحلے پرامریکا کے دباؤ میں نہیں آئے۔ امریکا سے مذاکرات میں کسی کا لہجہ نا تو معذرت خواہانہ تھا اور نا ہی کوئی ہچکچاہٹ تھی۔ جو باتیں ہم نے بند کمرے میں بیٹھ کر کیں وہ سب کے سامنے کہہ رہے ہیں۔ ہم نے امریکا کو واضح طور پر کہا کہ ہمیں کوئی امداد نہیں چاہیے ہمیں اپنا وقار چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ امریکا کی ہمارے پڑوس میں کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ان کے سامنے 16 برسوں کی ناکامیاں ہیں۔ وہ جرنیل جنہوں نے جنگ ہاری ہے وہ کبھی ایسی پالیسی تشکیل نہیں ہونے دیں گے جس میں انھیں اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا پڑے۔ افغانستان میں امن ہمارے اور خطے کے مفاد میں ہے کیونکہ پاکستان میں امن اسی وقت ہوگا جب افغانستان میں امن ہوگا۔ ہم نے ان پر واضح کیا ہے کہ اس مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں بلکہ اسے مذاکرات سے حل کرنا ہو گا۔ امریکا ہمارے ہمسائے افغانستان میں بیٹھا ہے۔ ہم مدد ضرور کریں گے۔ ہم امن کے لیے ان کی مدد ضرور کریں گے لیکن ہم کسی کی پراکسی نہیں بنیں گے۔ ہمیں قابل عمل خفیہ معلومات دی گئیں تو عمل کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری کامیابیاں سب کے سامنے ہیں. چار سال پہلے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ تھی لیکن آج حالات ویسے نہیں رہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں ڈرون حملے کم ہوئے ہیں کیونکہ ہم نے ان علاقوں کو صاف کیا ہے جو ان ڈرون حملوں اور ہماری سالمیت کے لیے خطرہ کا سبب بن رہے تھے۔ ہم نے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جنہیں یہ ڈرون مارتے تھے۔ جب تک افغان مہاجرین ہمارے ملک میں ہیں دہشت گردوں کا آنا جانا لگا رہے گا۔ ہم نے امریکا سے کہا کہ پاک-افغان بارڈر پر جو باڑ لگا رہے ہیں اس کی تعمیر اپنے خرچے پر کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا جن لوگوں کے ساتھ لڑ رہا ہے، وہ ان میں تھوڑی تفریق کر رہے ہیں۔ امریکی سمجھتے ہیں کہ طالبان سے بات ہو سکتی ہے لیکن حقانی نیٹ ورک سے نہیں۔ انھوں نے 75 ناموں کی لسٹ تھی جس میں سر فہرست حقانی گروپ کا نام ہے۔ انھوں نے حافظ سعید کا نام نہیں لیا۔ اس فہرست میں پاکستان کا کوئی پتا ہے اور نا ہی کوئی ایسا نام ہے جس کا تعلق پاکستان سے ہو۔ طالبان کے بہت سے ناموں میں لوگ افغانستان کے شیڈو گورنر ہیں اور کچھ اس دنیا میں ہی نہیں رہے۔