.

کیا اس مرتبہ اسلام آباد ڈو مور کا امریکی مطالبہ تسلیم کرے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں جو کچھ کر رہا ہے اس مزید اضافے کا پیغام لے کر اسلام آباد آنے والے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر اعلیٰ پاکستانی سول وفوجی حکام سے ملاقاتوں کے بعد بھارت سدھار چکے ہیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی مہمان سے سول اور فوجی قیادت نے ایک ساتھ ملاقات کی جس میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل نوید مختار، وزیرِ خارجہ خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ احسن اقبال اور وزیرِ دفاع خرم دستگیر بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں پاک امریکا تعلقات اور خطے کی صورتِ حال پر بات چیت کی گئی۔

پاکستان میں ریکس ٹیلرسن کے دیے گئے اس بیان کو انتہائی نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ہے، جو انہوں نے سوموار کو اپنے غیر علانیہ دورہ کابل میں دیا تھا۔ اس بیان میں میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے اس مطالبے کا اعادہ کریں گے، جس میں پاکستان سے کہا گیا تھا کہ وہ طالبان اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے خلاف اپنی سر زمین پر کارروائی کرے۔

ادھر پاکستان کی ایوان بالا [سینٹ] کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے اس بیان پر سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے نا قابلِ قبول اور نا مناسب قرار دیا ہے۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ٹیلرسن پاک امریکا تعلقات پر پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد کا مطالعہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹیلرسن نے کچھ مطالبات وزیرِ اعظم کو پیش کئے ہیں اور وزیر خارجہ کل ان مطالبات سے ایوان کو آگاہ کریں گے۔

سرد مہری سے عبارت خیر مقدم

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کل جب راولپنڈی کے ایئر پورٹ پر اترے تو وہاں کوئی بھی اعلیٰ حکومتی شخصیت ان کے استقبال کے لیے موجود نہیں تھی۔ ان سے ہاتھ ملانے کے لیے وہاں صرف درمیانے درجے کا ایک افسر بھیجا گیا تھا۔

ماضی کے پاکستان میں امریکی وزیر جارجہ ریکس ٹیلرسن کا ’انتہائی بے رخی‘ سے استقبال کیا گیا۔ اس مرتبہ پاکستان نے معمول کی رسوم بھی ادا نہیں کی ہیں جبکہ ٹیلرسن کے استقبال کے لیے وزارت خارجہ نے اپنے ایک درمیانے درجے کے عہدیدار کو وہاں بھیج رکھا تھا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ کا پاکستان میں قیام بھی صرف چار گھنٹے تک محدود رہا، جس کے بعد وہ پاکستان کے روایتی حریف ہمسایہ ملک بھارت روانہ ہو گئے۔

پاکستان حکومت اس وقت امریکی انتظامیہ سے سخت ناخوش ہے۔ اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں، جو انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ’دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں‘ سے متعلق زیادہ دیر تک خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان طالبان کی مبینہ حمایت کی وجہ سے پاکستان کی امریکی اتحادی کے طور پر امتیازی حیثیت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔