.

سوتیلی بیٹی سے کیا جانے والا نکاح باطل ہے: عدالت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی ضلع ہری پور میں پولیس سوتیلی بیٹی سے شادی رچانے والے بدطینت شخص، نکاح خواں سمیت ان کے نو ساتھیوں کو تلاش کر رہی ہے جو اس شرمناک فعل کے بعد مفرور ہیں۔

ہری پور کے علاقے پنڈ جمال خان سے تعلق رکھنے والی خاتون کونسلر شاہ بانو نے مقامی سیشن جج کی عدالت میں درخواست دی جس میں بتایا گیا کہ پہلے شوہر کے انتقال کے بعد اس نے وارث علی نامی شخص سے دوسری شادی کی۔ پہلے شوہر سے اس کے دو بچے تھے۔

درخواست گذار شاہ بانو کے مطابق وارث علی نے اپنی سوتیلی بیٹی سے ناجائز تعلقات استوار کر لئے اور ایک دن وہ اسے بھگا کر لے گیا اور بعد میں اس سے غیر قانونی طور پر نکاح کر لیا۔

خاتون کونسلر نے عدالت کو بتایا کہ وارث کے علاقے میں سیاسی اثر ورسوخ کی وجہ سے پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ متعلقہ قانون کے تحت ملزم کے خلاف پرچہ درج کرے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اس غیر قانونی کام کی انجام دہی میں نکاح خواں سمیت وارث کے تمام سہولت کاروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سوتیلی بیٹی سے شادی باطل فعل ہے لہذا اسے قانونی جواز فراہم کرنے کی خاطر کئے جانے والے نکاح کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ کم سن لڑکی کو زبردستی شادی پر مجبور کیا گیا ہے۔

علاقے کے علماء نے سوتیلی بیٹی سے نکاح کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملزم اور نکاح خواں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔