.

پیراڈائز لیکس: امیر لوگوں کی آف شور کمپنیوں میں چھپائی گئی دولت کا انکشاف

پاناما کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم شخصیات کے نام شامل سامنے آ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نئی مالیاتی دستاویزات کے افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ طاقتور اور انتہائی امیر شخصیات جن میں برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ بھی شامل ہیں کس طرح ٹیکس بچانے کے لیے خفیہ طریقے سے بیرون ملک آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وزیر تجارت ولبر راس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کے اس کمپنی میں مفادات ہیں جو اُن روسیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے جن پر امریکا نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔

ان لیکس میں، جنہیں پیراڈائز پیپرز کا نام دیا گیا ہے، 13.4 ملین دستاویزات شامل ہیں جن میں زیادہ تر ایک صف اول کی آف شور کمپنی کی ہیں۔

پیراڈائز پیپرز میں امریکی صدرٹرمپ کے 13 قریبی ساتھیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں جبکہ کینیڈین وزیراعظم کے قریبی ساتھی اور مشیر کا نام بھی پیراڈائز پیپرز میں شامل ہے۔ اردن کی سابق ملکہ نور دو ٹرسٹوں کی بینی فشری رہی ہیں۔ یورپ میں نیٹو کے سپریم کمانڈر رہنے والے امریکی جنرل ویزلے کلارک بھی ایک آف شور کمپنی کے ڈائرکٹر نکلے۔

مائیکرو سافٹ اور ’’ای بے‘‘ کے بانیوں کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں۔ گلوکارہ میڈونا اور پاپ سنگر بونو کی بھی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔ فیس بک اور 'ایپل کے آف شور کمپنیوں کے ذریعے اربوں ڈالر ٹیکس بچانے کا انکشاف بھی پیراڈائز لیکس میں ہوا ہے۔

پیراڈائز لیکس میں پاکستان کے سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف دور کے وزیر اعظم شوکت عزیز کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ شوکت عزیز نے انٹارکٹک ٹرسٹ قائم کیا جبکہ ان کی اہلیہ اور بچے بینی فشری تھے۔

پاکستان سے جنگ گروپ ان 100 میڈیا گروپوں میں شامل ہے جو اِن دستاویزات پر تحقیق کر رہا ہے۔ 'جنگ' اور 'دی نیوز' کے سینئر رپورٹر عمر چیمہ اس رپورٹنگ ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق وزیر خزانہ بننے سے کچھ پہلے شوکت عزیز نے ڈیلاویئر (امریکا) میں ٹرسٹ قائم کیا جسے برمودا سے چلایا جا رہا تھا۔ بطور وزیر خزانہ اور بطور وزیر اعظم شوکت عزیز نے کبھی یہ اثاثے ظاہر نہیں کئے۔

شوکت عزیز کے وکیل کا کہنا ہے کہ شوکت عزیز کو اپنے ٹرسٹ پاکستان میں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے وکیل نے یہ بھی کہا ہے کہ شوکت عزیز کی اہلیہ اور بچے بھی بینی فشری تھے، بینیفشل مالک نہیں۔

یاد رہے کہ شوکت عزیز پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ رہے۔ 1999 میں شوکت عزیز وزیر خزانہ مقرر ہوئے۔ 28 اگست 2004 کو وزارت عظمیٰ کا قلم دان سنبھالا۔ 15 نومبر 2007 کو بطور وزیراعظم سبکدوش ہو گئے جس کے بعد سے شوکت عزیز بیرون ملک مقیم ہیں۔

ساتھ ہی پاکستان کی ایک اور کمپنی نیشنل انشورنس کمپنی کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ ایاز خان نیازی کے برٹش ورجن آئی لینڈ میں چار آف شور اثاثے سامنے آئے ہیں۔ یہ سب کمپنیاں 2010 میں قائم کی گئیں جب ایاز نیازی این آئی سی ایل کے چیئرمین تھے۔

ایاز نیازی کے دو بھائی حسین خان نیازی اور محمد علی خان نیازی بینی فشل اونر تھے، ایاز نیازی، ان کے والد عبدالرزاق خان اور والدہ کے نام بطورڈائرکٹر ہیں۔ ایاز نیازی کو فروری 2009 میں نیشنل انشورنس کمپنی کا چیئرمین بنایا گیا۔ بینکنگ یا انشورنس کی تعلیم یا تجربہ نہ ہو نے کے باوجود تقرر ہوا۔

ایاز نیازی کا نام این آئی سی ایل کرپشن کیس میں سامنے آیا،چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے این آئی سی ایل کرپشن کا نوٹس لیا۔ انہیں اکتوبر 2010 میں جبری رخصت پر بھیجا گیا۔ نومبر 2010 میں ایاز نیازی نے خود کو قانون کے حوالےکر دیا۔ انہیں دسمبر 2011 میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا۔