.

افغانستان : جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے عملہ کا رکن قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں نامعلوم حملہ آوروں نے پاکستان کے قونصل خانے کے ایک اہلکار کو گولی مار کر قتل کردیا ہے۔

کابل میں متعیّن پاکستانی سفیر زاہد نصر اللہ خان نے بتایا ہے کہ ’’ایک موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں نے سوموار کی شام نیّر اقبال پر فائرنگ کردی تھی۔ وہ اس وقت ایک دکان سے اشیاء خرید کر گھر لوٹ رہے تھے‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ وہ فوری طور پر اس واقعے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کہ نیّر اقبال کو کیوں قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقتول کا تعلق ضلع سیال کوٹ سے تھا اور وہ جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے ویز ا سیکشن میں تعینات تھے۔انھوں نے پسماندگان میں بیوہ اور پانچ بچے سوگوار چھوڑے ہیں۔

صوبے ننگر ہار کے گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے ان کے قتل کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔مقتول کی نعش پوسٹ مارٹم کے لیے جلال آباد کے ایک اسپتال میں منتقل کردی گئی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ان کے قتل کے واقعے کی مذمت کی ہے اور افغانستان میں تعینات قونصلر عملہ اور سفارتی ملازمین کی سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کرکے ان سے اس واقعے باضابطہ طور پر احتجاج کیا ہے۔واضح رہے کہ چند ماہ قبل جلال آباد کے قونصل خانے ہی میں تعینات پاکستان کے دو سفارت کاروں کو اغوا کر لیا گیا تھا ۔ تاہم انھیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔