.

ایک نام اور انتخابی نشان، کراچی میں نیا سیاسی اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری شہر کراچی کی سیاست میں نیا منظر نامہ سامنے آیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی نے سیاسی اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ دونوں جماعتوں نے آئندہ انتخابات ایک پلیٹ فارم، منشور اور نشان پر لڑنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے واضح کیا ہے کہ ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی ختم نہیں ہونے جارہی بلکہ یہ صرف ایک سیاسی اتحاد ہوگا۔

کراچی میں کل تک ایک دوسرے کی شديد مخالف پاک سرزمین پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے اب ایک ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ دونوں جماعتیں ایم کیو ایم جس کے بانی الطاف حسین تھے، کے بطن سے گذشتہ صرف 20 ماہ کی مختصر مدت میں سامنے آئی تھیں۔

اندرون خانہ تو دونوں جماعتوں کے درمیان تقریبا 6 ماہ سے روابط جاری تھے اور خبریں عام تھیں۔ لیکن اس کا اعلان کراچی پریس کلب میں ہونے والی پر ہجوم پریس کانفرنس میں ہوا۔ دونوں جماعتوں کے راہنما وں ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ سندھ بالخصوص کراچی مختلف مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ اور یہاں کا ووٹر بھی تقسیم ہو رہا تھا جبکہ امن کو دیرپا بنانے کے لئے یہ اتحاد ضروری تھا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کراچی میں امن کو دیرپا بنانے، مستقبل میں سیاسی تشدد کا راستہ روکنے اور شہری آبادی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور سیاسی اتحاد قائم کیا جائے۔ تاہم اس اتحاد کا نام اور طریقہ کار پر بعد میں غور کیا جائے گا۔

ان کے مطابق یہ سیاسی اتحاد پاکستان، سندھ اور کراچی کی ضرورت ہے۔ کراچی کو درپیش مسائل کے حل کے لئے یہ ایک مشترکہ اور مثبت کوشش ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی کوشش ہے کہ اس اتحاد میں دیگر جماعتوں کو بھی شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کراچی کو کھوئی ہوئی عظمت لوٹانا اور مہاجروں کے احساس محرومي کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیل شدہ پارٹی کے دفاتر ان کی ملکیت ہیں، انہیں واپس کئے جائیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی ختم نہیں ہونے جارہیں بلکہ یہ ایک سیاسی اتحاد ہوگا۔

دوسری جانب سابق ناظم کراچی اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک نام، ایک انتخابي نشان اور ایک منشور سے جدوجہد کا اعادہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم الطاف حسین کی تھی، ہے، اور رہے گی۔ یہ شخص مہاجروں کو کھائی میں ڈال رہا تھا۔ اس لئے اب جو بھی شناخت ہوگی وہ ایم کیو ایم نہیں ہوگی۔ ایم کیو ایم کے نام اور اس کے بانی الطاف حسین نے مہاجروں کو بدنام کیا اور انہیں شرمندہ کیا۔ لیکن اب ان کا مقصد کراچی کے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد ہے۔

مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ماضی کو بھول کر دونوں جماعتیں آگے بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر کے نام پر لسانی بنیاد پر سیاست کی گئی تو نقصان ہی اٹھایا۔ لیکن اب ہماری سیاست کا محور کوئی ایک اکائی نہیں بلکہ تمام لسانی اکائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2018 میں دونوں جماعتیں مل کر وزیر اعلیٰ سندھ لے کر آئیں گی ۔

کراچی کی سیاست میں اس اہم پیش رفت پر ردعمل آنے بھی شروع ہوگیا ہے، متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی نے موجودہ صورت حال سامنے آنے پر ٹوئیٹر پر جاری اپنے بیان میں رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے استعفیٰ دینے اور پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال اور انیس قائمخانی نے 3 مارچ 2016 کو ایم کیو ایم سے راہیں جدا کرکے الگ جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار اور دیگر راہنماؤں نے 22 اگست 2016 کو پارٹی کے بانی اور قائد الطاف حسین سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔

مہاجر اتحاد پر پرویز مشرف کا اظہار مسرت

ادھر سابق صدر پرویز مشرف نے ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے اتحاد پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مجھے ایم کیو ایم سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ مہاجر قوم سے ہمدردی ہے۔ ایم کیو ایم نے پاکستان میں خود کو بدنام کر دیا ہے۔ پاکستان میں اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ ایم کیو ایم کی وجہ سے مہاجر قوم شدید تکلیف میں ہے۔ انہوں نے کہا میری سوچ صرف مہاجر کمیونٹی سے نہیں بلکہ میری سوچ پاکستانیت ہے۔

ریٹائرڈ جنرل مشرف نے مزید کہا کہ مہاجر کمیونٹی کو اکٹھا ہونا چاہئے بلکہ اس سے بھی آگے کی سوچ کو رکھنے کی ضرورت ہے۔ جس میں کراچی کے پنجابی، پٹھان، بلوچی، بنگالی، بہاری سب کو اکٹھا ہوکر نئی طاقت کو ابھارنا چاہئے۔ دیہی علاقوں کو بھی اپنی سوچ کے قریب لانا ہوگا، جس سے پیپلزپارٹی کو اندرون سندھ میں شکست دے سکتے ہیں اور سندھ میں حکومت بنا سکتے ہیں۔ سندھ کے بعد پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا میں اے پی ایم ایل کے ساتھ مل جائیں تو پورے پاکستان میں نئی سیاسی اور پاکستانیت کی سوچ کا آغاز ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ متحد ہونے پر مہاجر قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور یہ بھی کہتا ہو کہ اپنی سوچ کو بلند کریں۔ پاکستان کے بارے میں سوچیں۔ خود کو ایم کیو ایم کے دائرے سے باہر نکالیں اور اپنے اوپر مہاجر کے دھبے کو مٹائیں۔