.

قومی اسمبلی میں ترمیمی الیکشن بل2017ء منظور، ختم نبوت سے متعلق شقیں مزید مؤثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں قومی اسمبلی نے الیکشن بل ترمیمی 2017ء کی منظوری دے دی ہے ۔اس کے تحت ختم نبوت سے متعلق شقوں کو ان کی اصل شکل میں بحال کردیا گیا ہے اور انھیں مزید مؤثر بنا دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے جمعرات کو یہ بل ایوان میں پیش کیا۔انھوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ وہ ا ور ان کا خاندان مسلمان ہیں اور ختم نبوت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا’’ میں اور میرا خاندان ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار ہے‘‘۔

اس موقع پر وزیر داخلہ احسن اقبال اپنے ساتھی وزیر کی حمایت میں بولنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے زاہد حامد کو یہ مخاطب کر کے کہا کہ ’’ ریاست میں عقیدہ اور اللہ سے تعلق ان کے اور اللہ کے درمیان معاملہ ہے اور کسی شخص کو کسی کے عقیدے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے‘‘۔

انھوں نے کہا’’ میں اپنے بھائی زاہد حامد کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کا عقیدہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے اور آپ کو اس سے متعلق کسی قسم کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

اس ترمیمی بل کے ذریعے عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق آرڈر مجریہ 2002ء کی دو شقوں 7 بی اور 7 سی کو ان کی اصل شکل میں بحال کردیا گیا ہے۔شق 7 بی میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آئین میں بیان کردہ قادیانیوں کی حیثیت برقرار رہے گی جبکہ شق 7 سی میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی ووٹر کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت سے متعلق عقیدے کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اسے اپنے عقیدے کے بارے میں بیان حلفی دینا ہوگا۔ اگر وہ اس میں ناکام رہتا ہے تو پھر اس کا نام مشترکہ ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا جائے گا اور اس کا نام ایک ذیلی فہرست میں غیر مسلم کے طور پر درج کرلاا جائے گا۔

وزیر قانون زاہد حامد نے ایوان کو بتایا کہ ترمیمی بل سے مذکورہ شقیں مزید موثر ہوجائیں گی ۔ احمدیوں کے لیے ایک الگ ووٹر لسٹ وضع کی جائے گی اور ان کے نام مسلمانوں کی فہرست میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔انھوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ ختم نبوت کے اعلامیے کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں اپنی شکل میں بحال کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ معزول وزیراعظم میاں نواز شریف کو حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کا صدر بنوانے کے لیے پارلیمان کے منظور کردہ الیکشن ایکٹ 2017نے ان تنازعات کو جنم دیا تھا اور اس کے نفاذ کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ ختم نبوت سے متعلق اعلامیے میں ترمیم کردی گئی ہے۔حکومت نے اس کو تسلیم کرنے کے بجائے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ ایک کلریکل غلطی ہے اور اعلامیے کو اصل شکل میں بحال کر دیا جائے گا۔

اس ’’کلریکل غلطی ‘‘ کے خلاف بعض مذہبی تنظیموں نے اسلام آباد اور راول پنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد چوک میں گذشتہ ایک ہفتے سے دھرنا دے رکھا ہے اور وہ اس غلطی کے ذمے داروں کے تعیّن اور وزیر قانون زاہد حامد کو ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں چھیڑ چھاڑ پر ہٹانے کا مطالبہ کررہی ہیں۔