.

ایران اور اس کی ملیشیائیں خطے کا امن تباہ کر رہی ہیں: مجلس علماء پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان علماء کونسل نے اسلامی دنیا اور بین الاقوامی برادی کو خبردار کیا ہے "کہ ایران کی دہشت گرد ملیشیائیں لبنانی حزب اللہ اور یمنی حوثی خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے مںصوبوں پر مسلسل کام رہے ہیں۔"

اس امر کا اظہار علماء کونسل کے زیر اہتمام لاہور میں "سیرت النبی کی روشنی میں اسلامی دنیا کے مسائل کا حل" کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس کے دوران منظور کی جانے والی قرارداوں میں کیا گیا۔ کانفرنس میں ملک بھر سے سرکردہ علماء، دانشور اور سیاسی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء کانفرنس نے بین الاقوامی برادری اور بالخصوص اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز اور بالخصوص ایران کی جانب سے خطے کے ممالک میں اپنی دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے بیرونی مداخلت اور سازشوں کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔

کانفرنس کے شرکاء نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی خطرے کو پہنچانیں۔ اس کی روشنی میں ایران اور اس کی دہشت گرد ملیشیا تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جا سکے تاکہ علاقے اور دنیا کو ایران کے تباہ کن منصوبوں کے اثرات سے محفوظ بنا سکیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین مولانا طاھر محمود اشرفی نے پاکستانی علماء کی جانب سے سعودی عرب کی اس اپیل کی مکمل تائید اور حمایت کا یقین دلایا جس میں الریاض نے ایران کو مملکت کے امور میں مداخلت سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ انھوں نے اسلامی ملکوں سے پر زور اپیل کی کہ وہ ایران کو دہشت گردی کی حمایت سے روکنے کے لئے اپنا رسوخ استعمال کریں کیونکہ تہران عرب دنیا میں اپنے تخریب کار عناصر کے ذریعے وہاں بے امنی پھیلا رہا ہے۔

انھوں یمن کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام وہاں پر ایران نواز حوثی ملیشیاء کی حمایت کی شکل میں ایک بڑی قیمت دینے پر مجبور ہیں۔ باغیوں کو اسلحہ سمگل کیا جا رہا ہے۔ شام اور عراق میں یہی صورتحال ہے کیونکہ وہاں ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب، دہشت گرد حزب اللہ نہتے عوام کے خلاف رسوائے زمانہ دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

کانفرنس کے اعلامیے میں حال ہی میں عرب لیگ کے قاہرہ میں ہونے والے وزراء خارجہ کے اجلاس میں منظور ہونے والے اختتامی بیان کا خیر مقدم کیا گیا جس میں ایران کے منفی کردار یمن، بحرین اور لبنان میں تہران کی باغی ملیشیاوں سے متعلق دو ٹوک موقف اپنایا گیا۔