.

اسلام آباد دھرنے کے خلاف آپریشن، درجنوں مظاہرین گرفتار

احتجاجی دھرنے کی قیادت نے فیس بک لائیو کے ذریعے تقریریں شروع کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں فیض آباد انٹرچینج پر 20 دن سے جاری دھرنا ختم کرانے کے لئے قانون نافذ کرنے والوں کا آپریشن جاری ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان اب تک ہونے والی جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور متعدد اہلکاروں سمیت درجنوں زخمی ہوگئے۔

ادھر پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی 'پیمرا' نے میڈیا کو آپریشن کی لائیو کوریج سے روک دیا لیکن چینلز کی طرف سے احکامات کی خلاف ورزی پر کیپلز آپریٹرز سے زبردستی نشریات روکنے کو کہا گیا ہے جس کے بعد جڑواں شہروں میں سرکاری ٹی وی کے علاوہ کوئی بھی ٹی وی چینل کیبل پر نہیں دکھایا جا رہا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کی آخری ڈیڈلائن بھی ختم ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے آپریشن شروع کیا جس کے نتیجے میں مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ آپریشن میں پولیس، رینجرز اور ایف سی حصہ لے رہی ہیں۔ سیکورٹی فورسز مظاہرین کو منشتر کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور فیض آباد کا علاقہ کلیئر کرایا جا چکا ہے۔

صبح سویرے سیکورٹی اہلکاروں نے فیض آباد میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کرتے ہوئے پیش قدمی کی تو مظاہرین نے سامنے سے پتھراؤ شروع کردیا۔ تاہم پولیس کی پیش قدمی جاری رہی اور انہوں نے مظاہرین کے قریب پہنچ کر ان پر لاٹھی چارج شروع کردیا۔

اس دوران سیکورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے جن میں مظاہرین اور اہلکار دونوں شامل ہیں۔ پولیس کے لاٹھی چارج کے جواب میں مظاہرین نے بھی اہلکاروں پر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔

پولیس نے بڑی تعداد میں مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔ اب تک 50 سے زیادہ افراد کو حراست میں لے کر مختلف تھانوں میں منتقل کیا جاچکا ہے۔ آپریشن کے آغاز میں پولیس کو فوری کامیابی حاصل ہو گئی اور انہوں نے 80 فیصد علاقے کو کلیئر کرا لیا تاہم پھر مظاہرین کے قدم سنبھل گئے۔

قریبی مساجد سے دھرنا دوبارہ دینے کے اعلانات بھی کیے گئے جس کے نتیجے میں مظاہرین بڑی تعداد میں واپس آگئے اور پولیس کے ساتھ ان کا دو بدو تصادم ہوا ہے۔ شدید شیلنگ کی وجہ سے علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ دھویں کے گہرے بادل چھا گئے اور ہر طرف پتھر بکھرے پڑے ہیں۔ اب تک فیض آباد کے وسیع علاقے کو کلیئر کرایا جا چکا ہے تاہم کہیں کہیں مظاہرین کی ٹولیوں اور پولیس میں تصادم جاری ہے۔

ایکسپریس ہائی وے اور راول ڈیم پر مظاہرین اور پولیس میں تصادم جاری ہے۔ بہت سے مظاہرین راول پنڈی کی طرف بھی فرار ہوگئے ہیں۔ دھرنے کے مرکزی مقام پر بنائے گئے اسٹیج پر مظاہرین اور ان کی قیادت موجود ہے جبکہ پولیس نے ان کا محاصرہ کیا ہوا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں 20 روز سے مذہبی جماعتوں کا دھرنا جاری تھا اور مظاہرین الیکشن کے کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت سے متعلق ترمیم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انتظامیہ نے مظاہرین کو دھرنا ختم کرنے کے لیے ہفتہ کو صبح 7 بجے تک کی ڈیڈ لائن دی تھی جو ختم ہونے پر آپریشن کیا گیا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعدد بار دھرنا ختم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے تاہم احتجاج ختم نہیں کیا گیا۔ دھرنا ختم کرنے کے لیے حکومت نے اس سے پہلے دو بار ڈیڈ لائن دی تھی تاہم دھرنا ختم نہیں کیا گیا جس پر انتظامیہ نے آج صبح 7 بجے تک کی تیسری اور آخری وارننگ دی گئی تھی جو گزرنے پر آپریشن شروع کر دیا گیا۔