.

اسلام آباد دھرنا کے اطراف نیم فوجی دستے رینجرز تعینات

پولیس کارروائی کے دوران مظاہرین کے ساتھ جھڑپ میں 6 افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فیض آباد کے انٹر چینج پر جاری مذہبی جماعتوں کے دھرنے کے کے باعث سیکیورٹی انتظامات رینجرز کے حوالے کرتے ہوئے پیرا ملٹری اہلکاروں نے فیض آباد کے اطراف پوزیشنز بھی سنبھال لیں۔

فرنٹیئر کور (ایف سی) اور اسلام آباد پولیس کو اگلی پوزیشن سے ہٹا دیا گیا جبکہ وہ اس وقت فیض آباد پر رینجرز اہلکاروں سے پچھلی پوزیشنز پر چلے گئے ہیں۔

رینجرز حکام نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز پولیس، انتظامیہ اور رینجرز حکام کا اجلاس ہوا تھا جس میں رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا تاہم اب ایک ہزار سے زائد پیرا ملٹری اہلکار فیض آباد کے اطراف میں تعینات ہیں جس کا مقصد جلاؤ گھیراؤ کو روکنا ہے۔

عدالتی حکم کے بعد فیض آباد دھرنے کو ختم کرنے کے لیے پولیس کارروائی کے دوران مظاہرین کے ساتھ جھڑپ کے نتیجے میں اب تک 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔

معاصر عزیر انگریزی روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں حافظ محمد عدیل، جہانزیب بٹ، عبدالرحمٰن، محمد شرجیل، زوہیب احمد اور محمد عرفان شامل ہیں۔ دھرنے کے دوران پولیس کے ایک اعلیٰ سینیئر افسر سمیت 9 پولیس افسران اور ایک پولیو ورکر بھی شدید زخمی ہوا ہے۔

فیض آباد میں ابھی بھی مظاہرین کی جانب سے دھرنا جاری ہے جبکہ دھرنا مظاہرین نے 26 نومبر کو ایک گاڑی اور 4 موٹر سائیکلوں کو نذر آتش بھی کیا۔مشتعل مظاہرین نے صبح 8 بجے سیکٹر آئی 8 کے قریب کھڑی گاڑی کو آگ لگائی جبکہ کچنار پارک کے قریب کھڑی 4 موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگائی۔

اسلام آباد میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے ترجمان کے مطابق اب تک 190 زخمی لائے گئے تھے جن میں 73 پولیس اور 64 ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق 188 زخمیوں کو طبی امداد دینے کے بعد ڈسچارج کردیا گیا جبکہ اس وقت 2 زخمی پمز ہسپتال کی ایمرجنسی میں زیر علاج ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق سوہان کے قریب ناکے پر کھڑے 2 پولیس اہلکاروں کو دھرنے کے شرکاء اٹھا کر لے گئے جبکہ دونوں اہلکاروں کی واپسی کیلئے دھرنے والوں سے بات چیت جاری ہے۔