.

اسلام آباد دھرنا: ’وزیر قانون زاہد حامد نے وزیراعظم کو استعفیٰ پیش کر دیا`

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت پاکستان اور دھرنا دینے والی مذہبی جماعت لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے مطابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے عہدے سے رضاکارانہ استعفیٰ دے دیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو پیش کر دیا۔

دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے حوالے سے بتایا کہ راجا ظفر الحق رپورٹ 30 دن میں منظر عام پر لائی جائے گی جبکہ الیکشن ایکٹ ترمیم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔معاہدے کے مطابق 6 نومبر کے بعد سے مذہبی جماعت کے گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے گا اور ان کے خلاف مقدمات اور نظر بندیاں ختم کی جائیں گے۔

معاہدے میں طے پایا گیا کہ 25 نومبر کو حکومتی ایکشن سے متعلق انکوائری بورڈ قائم کیا جائے گا اور ذمہ داروں کا تعین کرکے 30 دنوں میں کارروائی کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق زاہد حامد نے اپنے استعفیٰ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ء میں ترمیم سے براہِ راست میرا کوئی تعلق نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے، موجود کشیدہ صورت حال کے سبب اپنے عہدے سے رضاکارانہ استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز زاہد حامد نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ایک گھنٹہ طویل اہم ملاقات کی تھی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے اتوار کے روز زاہد حامد کے استعفیٰ کی منظوری کا امکان ہے۔ زاہد حامد اپنے استعفیٰ پر تفصیلی بیان جاری کریں گے۔

ادھر دھرنا قائدین کا کہنا ہے کہ وہ زاہد حامد کے رضاکارانہ استعفیٰ پر اپنے رد عمل کا اظہار مشاورت کے بعد صبح 7 بجے کریں گے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی جماعت لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گذشتہ 21 روز سے دھرنا دیا ہوا ہے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ختم رسالت کے حلف نامے میں متنازع ردوبدل پر وفاقی وزیر قانون اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ہفتے کے روز عدالتی احکامات کے بعد حکومت نے ڈیڈلائن ختم ہونے پر دھرنا مظاہرین کے خلاف کارروائی شروع کی، کارروائی کے باوجود دھرنا ختم نہیں ہو سکا تھا اور اس کا دائرہ ملک بھر کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کی صورت پھیل گیا تھا۔ جس کے بعد قبل اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد پر مذہبی جماعتوں کے دھرنے کے حوالے سے پولیس اور رینجرز کے آپریشن کی سربراہی پنجاب رینجرز کے سربراہ کو سونپ دی گئی تھی۔

اتوار کی شام وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ 26 نومبر سے تین دسمبر تک راولپنڈی اور اسلام آباد میں فیض آباد دھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے میجر جنرل اظہر نوید حیات خان ڈائریکٹر جنرل پنجاب رینجرز کو اس تمام آپریشن کا انچارج تعینات کیا گیا۔