.

امریکی وزیر دفاع کا وزیراعظم عباسی سے دہشت گردی مخالف جنگ میں تعاون پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیر دفاع جیمز میٹس نے اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔وہ آج سوموار کو پاکستان کے پہلے دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔

ملاقات میں پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان ، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف ، وزیر داخلہ احسن اقبال ، قومی سلامتی کے مشیر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ اور انٹر سروسز انٹیلی ( آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل ، لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور اسلام آباد میں متعیّن امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل بھی موجود تھے۔امریکی وزیر دفاع نے پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے بعد وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق :’’ جنرل میٹس نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستان کے ساتھ مثبت ، مستقل اور طویل المیعاد شراکت داری کے لیے مشترکہ اساس تلاش کرنا تھا‘‘۔

’’امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے جانی نقصان اور دوسری قربانیوں سے آگاہ ہیں اور انھوں نے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے مشترکہ مقصد کے لیے تعاون کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے‘‘۔انھوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تر شراکت داری کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان ہی کو پہنچے گا۔

انھوں نے وزیر دفاع جیمز میٹس کی اس بات سے اتفاق کیا کہ خطے میں طویل المیعاد استحکام کے لیے افغانستان میں امن اور سلامتی امریکا اور پاکستان دونوں کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ انھوں نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے سے متعلق امریکا کے عزم کو سراہا۔

وزیراعظم نے امریکی وزیر دفاع کو ملک میں امن وامان کی صورت حال کی بہتری کے لیے حال ہی کی جانے والی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان کے قومی مفاد میں سراغرسانی کی بنیاد پر دہشت گرد عناصر کے خلاف ایسے آپریشن جاری رکھے جائیں گے۔انھوں نے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ ملک کے کسی علاقے میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر دفاع کے اس دورے سے ایک روز قبل ہی سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے علاقے میں ان مبینہ محفوظ ٹھکانوں کو تباہ نہیں کیا تو امریکا انھیں تباہ کرنے کے لیے جو اس بن پڑا ، وہ کرے گااور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ محفوظ ٹھکانے نیست ونابود ہوجائیں۔

افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے بھی گذشتہ ہفتے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ’’پاکستان نے امریکا کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کو پورا نہیں کیا ہے اور اس نے ان پر عمل درآمد نہیں کیا ہے‘‘۔

امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اگست میں اعلان کردہ جنوبی ایشیا کے لیے نئی پالیسی کے تحت پاکستان سے افغان طالبان کے خلاف جنگ میں تعاون کا طلب گار ہے اور اس کا یہ خیال ہے کہ میدان جنگ میں شکست کے بعد افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا آسان ہوگا لیکن امریکا گذشتہ سولہ سال کے دوران میں جنگ زدہ ملک میں فوجی نفری میں اضافے کے باوجود طالبان کو شکست سے نہیں دےسکا ہے۔