.

بھارتی خاتون کی صدر ممنون حسین سے پاکستان میں قید بیٹے کی رہائی کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں قید ایک بھارتی استاد کی والدہ نے صدر ممنون حسین سے اپنے بیٹے کی باقی ماندہ کی قید کی سزا معاف کرنے کی اپیل کی ہے۔

حامد انصاری نامی اس بھارتی مسلمان کو پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی سے فیس بُک کے ذریعے محبت ہوگئی تھی۔ وہ افغانستان کے راستے پاکستان میں در آیا تھا اور پھر گرفتار ہوگیا تھا۔ ایک فوجی عدالت نے اس کو تین سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

اس کی والدہ نے صدر ممنون حسین کے نام ایک خط میں لکھا ہے:’’ محترم صدر ! آپ کی حکومت نے حامد انصاری سے بھی زیادہ سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والے غیر ملکیوں کے ساتھ رحم اور معافی کا معاملہ کیا ہے۔اگر آپ اس کی قید کی باقی مدت معاف کردیتے ہیں تو پھر بھارت میں قید پاکستانیوں کی جلد رہائی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ حامد انصار ی کی سزایابی سے قبل حراست کا دورانیہ ( تین سال) قید کے طور پر شمار کر لیا جائے اور اس کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کردیا جائے۔نیز اس کو فون پر اپنے خاندان سے بات کرنے کی اجازت دی جائے‘‘۔

اس بھارتی شہری کے خلاف ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا ۔اس کو سنائی گئی قید بامشقت کا آغاز 15 دسمبر 2015ء سے ہوا تھا اور یہ مدت آیندہ سال 14 دسمبر کو ختم ہوگی۔حامد انصاری ممبئی کا رہنے والا ہے۔اس پر پشاور کی سنٹرل جیل میں گذشتہ سال بعض قیدیوں نے کسی بات پر مشتعل ہوکر حملہ بھی کردیا تھا جس سے وہ زخمی ہوگیا تھا۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق حامد انصاری بھارت میں انتظامی علوم کی تعلیم کے ایک ادارے میں اسسٹنٹ پروفیسر تھا۔اس کی کوہاٹ سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی سے فیس بُک پر دوستی ہوگئی تھی اور پھر یہ دوستی محبت میں تبدیل ہوگئی تھی۔اس نے اس لڑکی سے ملنے کے لیے پہلے پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی سے ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جب وہ اس میں ناکام رہا تو افغانستان کے راستے غیر قانونی طور پر پاکستان آگیا تھا۔

اس کو کوہاٹ کے ایک ہوٹل سے 14 نومبر 2012ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔اس کے خلاف عدالت میں غیر قانونی داخلے کے بجائے جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔عدالت سے سزا کے حکم سے قبل وہ تین سال تک حکام کے زیر حراست رہا تھا۔انسانی حقوق کمیشن نے بھی اس کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔