.

امریکا اپنا سفارت خانہ بیت ا لمقدس میں منتقل کرنے سے گریز کرے: پاکستان

امریکی اقدام سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے فلسطینیوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے نصب العین کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور امریکا کے اسرائیل میں اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے مجوزہ اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداوں کی واضح خلاف ورزی ہوگا۔

اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ شہر القدس الشریف میں منتقلی سے اس شہر کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل ہوکر رہ جائے گی‘‘۔

بیان کے مطابق:’’ امریکی اقدام سے اس ایشو پر عشروں سے جاری عالمی اتفاق رائے کو بالائے طاق رکھ دیا جائے گا۔اس سے علاقائی امن اور سلامتی کو نقصان پہنچے گا اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے امکانات بھی معدوم ہوجائیں گے‘‘۔

وزیراعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ ’’پاکستان کی حکومت اور عوام دو ٹوک انداز میں امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے مجوزہ منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں۔پاکستان اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی ) کے اس ایشو پر منظور کردہ اعلامیے کی مکمل توثیق کرتا ہے‘‘۔

او آئی سی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ جو ملک بھی اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرتا ہے یا مشرقی القدس کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اقدام کو تسلیم کرتا ہے تو تنظیم کے رکن ستاون اسلامی ممالک کو اس کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لینے چاہییں۔

پاکستان نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے باز رہے جس سے یروشیلم کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل ہوسکتی ہو ۔اس نے فلسطینی تنازعے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تمام قرار دادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کی بنیاد پر 1967ء سے قبل کی سرحدوں میں ایک آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو عرب لیڈروں سے کہا تھا کہ وہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشیلم میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان کا یہ فیصلہ امریکا کی برسوں سے جاری پالیسی سے بھی انحراف ہے جس کے تحت مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے زیر قبضہ اور متنازع شہر تسلیم کیا جاتا ہے۔

امریکا کے بعض سینیر عہدے داروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ بدھ کو یروشیلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیں گے لیکن وہ امریکی سفارت خانے کو یروشیلم منتقل کرنے کا معاملہ چھے ماہ کے لیے موخر کردیں گے ۔تاہم وہ اپنے قریبی معاونین کو اس مقصد کے لیے منصوبہ بندی کے آغاز کا کہہ سکتے ہیں۔