.

ایران، افغانستان میں جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے: گلبدین حکمتیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار کا کہنا ہے کہ ایران ہمیشہ سے افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران، افغانستان میں امریکی اتحاد کو زمینی افواج بھی فراہم کرتا ہے۔

معاصر عزیز "جیو نیوز" کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے گلبدین حکمتیار کا کہنا تھا کہ "بہت سے ممالک افغانستان میں جاری جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جن میں ہمارے پڑوسی ممالک بھی شامل ہیں۔ ہمارے ہمسایہ ایران کا مسئلہ افغانستان میں سب سے منفی کردار رہا ہے۔ اس نے ہمیشہ افغانستان میں جنگ کو ترجیح دی ہے۔"

اینکر پرسن سلیم صافی کے ایک سوال کے جواب میں افغان رہنما کا کہنا تھا کہ ایران، افغان جنگ میں ایک فریق ہے۔ پچھلے تیس سالوں سے جتنا بھی اسلحہ اور مہم جوئی ہوئی وہ ایران سے ہوئی ہے۔ روسی فوج کے انخلاء اور ڈاکٹر نجیب کی حکومت کے خاتمے کے بعد جتنا بھی اسلحہ افغانستان آیا وہ ایران کے راستے مشہد سے ہرات اور ہرات سے پورے افغانستان میں منتقل ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ طالبان کے بعض دھڑوں کو اسلحہ فراہمی اور کارروائیوں میں ایران مدد کررہا ہے۔

گلبدین حکمتیار کا کہنا تھا کہ "امریکا نے افغانستان میں آمد سے قبل مجھ سے ایران میں رابطہ کرکے طالبان کے خلاف تعاون مانگا تو میں نے کسی غیر ملکی فوج کی مدد کرنے سے انکار کردیا۔ میں نے امریکی فوجیوں کو خبردار کیا کہ وہ کابل پر قبضہ کربھی لیں تو اس کو برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔"

امریکا کی کابل پر چڑھائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "امریکا اپنے اتحادیوں سمیت کابل میں اترا تو اس وقت امریکا کا سب سے زیادہ ساتھ ایران نے دیا۔ ایران نے افغانستان میں امریکی مفادات کے لئے زمینی افواج فراہم کیں۔ ایران کی حکومت نے ایک وقت میں مجھے بھی امریکا کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔"