.

پاکستان نے سعودی عرب کو دفاعی معاہدے کی پیش کش کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اہم تعلقات کے باوجود دفاع کے میدان میں اسٹرٹیجک تعاون کے معاہدے نہیں ہیں، تاہم دفاعی تعلقات کی مضبوطی کے لیے تعاون کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ یہ پیش کش اسلام آباد میں وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع محمد بن عبداللہ العیش کو بدھ کے روز ہونے والی ایک ملاقات کی۔

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع نے کہا کہ سعودی حکومت مسلح افواج کی تربیت کے لیے بالخصوص انسداد دہشت گردی غیر معمولی جنگ اور پہاڑوں پر لڑائی کے میدان میں پاکستان کا تعاون چاہتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک میں اہم تعلقات کے باوجود د فاع کے میدان میں اسٹرٹیجک تعاون کے معاہدے نہیں ہیں۔ انہوں نے دفاعی تعلقات کی مضبوطی کے لیے تعاون کی تجویز پیش کی۔ خرم دستگیر نے کہا کہ اسٹرٹیجک تعاون بڑھانے کے لیے دونوں ممالک میں یونیورسٹیوں کے معاہدوں کو تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر سیکریٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الحسن شاہ، ایڈیشنل سیکریٹری دفاع فیصل رسول لودھی اور اسلام آباد میں سعودی سفیر نواب سعید المالکی بھی اجلاس میں موجود تھے۔ وفاقی وزیر نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلیمان بن عبدالعزیز کی صحت اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر نے بھارت کی جانب سے سرحدوں پر خلاف ورزی کا ذکر کیا جس کے نتیجے میں بہت سے شہری جاں بحق ہوئے۔ وفاقی وزیر نے اس صورتحال کو روکنے کے لیے سعودی عرب کی حکومت کو اپنا سفارتی کردار ادا کرنے کو کہا۔ انھوں نے اسلامی فوجی اتحاد کی کامیاب وزارتی کانفرنس پر سعودی شہزاد ے کو مبارکباد کا پیغام دیا جو انسداد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے منعقد کی گئی اور الحرمین الشریفین کی حفاظت اور سالمیت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔