.

القدس فلسطین کا صدر مقام تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا: شرکاء القدس سیمینار

اسلامی یونیورسٹی سیمینار میں فلسطینی ،سعودی سمیت متعدد سفراء کی شرکت اور خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"القدس پر اسرائیلی قبضہ کو امریکا کی طرف سے تسلیم کیا جانا عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، جو کہ ایک ناقابل قبول اقدام ہے۔ یروشیلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانے کے وہاں قیام کے اعلان نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو مغموم کیا ہے۔ امت مسلمہ کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ صرف زبانی فیصلوں اور مذمت کی بجائے عملی اقدامات کئے جائیں۔ یروشیلم اسرائیلی نہیں بلکہ فلسطینی دارالخلافہ فلسطین تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا ہے۔"

ان خیالات کا اظہار جمعرات کے روز بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں''بیت المقدس کی اہمیت اور مسئلہ فلسطین کے حل میں پاکستان اور سعودی عرب کا کردار'' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کے شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا انعقاد اسلامی یونیورسٹی کے فیصل مسجد کیمپس میں ہوا جس میں اسلام آباد میں متعین فلسطینی سفیر ولید ابو علی، سعودی عرب کے سفیر نواف المالکی سمیت یمن انڈونیشیا اور مصر کے سفراء بھی شریک تھے۔ قائد ایوان بالا سینیٹر راجہ ظفرالحق، سینیٹر مشاہد حسین سید، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز، سینیٹر سحر کامران، پاکستان علماء کونسل کے سربراہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی، صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش، اسلامی یونیورسٹی کے نائب صدور، جامعہ کے عرب ممالک اور پاکستانی فیکلٹی ممبران اور طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے فلسطین کے سفیر ولید ابو علی نے کہا کہ فلسطینی عوام مسلم دنیا کی طرف سے یکجہتی پر مشکور ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیشہ سے پاکستان اور سعودی عرب نے فلسطین کے مسئلہ کو اولین ترجیح جانا ہے اور آج بھی کئی ہزار فلسطینی سعودی عرب میں اپنے ملک کی طرح رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یروشیلم پر غیر قانونی قبضے کو تسلیم کیا جانا غیر منطقی اور غیر قانونی اقدام ہے۔ انھوں نے سیمینار کے انعقاد پر اسلامی یونیورسٹی کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انھوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ ختم کرائے۔

سعودی سفیر نواف المالکی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے ضمن میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کی جائے اور حالیہ امریکی اقدام مسلم دنیا کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ فلسطین کی مدد کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے اور سعودی عرب اخلاقی، مالی ہر لحاظ سے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ عالمی برادری فلسطین میں غیر قانونی آباد کاریوں کا نوٹس لے اور بیت المقدس کے مسئلہ پر امریکی کی اسرائیل کے لیے حمایت درست اقدام نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی حریت پسند قوم ہیں اور آج بھی وہ نہتے ہو کر اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں جبکہ اسرائیلی بزدلانہ اقدام ان کے مصمم ارادوں پر اثر انداز نہیں ہوئے۔ انھوں نے سعودی عرب کے مسئلہ فلسطین کے حل میں مثبت کردار کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ جلد فلسطین ایک آزاد ریاست کا حق حاصل کر لے گا۔

مصری سفیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصر نے 4 بار فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے خلاف اسرائیل سے جنگ کی اور حالیہ امریکی فیصلے پر بھی ہر فورم پر اس کی بھرپور مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ الازہر یونیورسٹی اس مسئلہ پر17 سے 18 جنوری تک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی کرے گی۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ افسوس ناک امریکی فیصلے پر مسلمانوں کو چپ نہیں بیٹھنا ہو گا اور محض باتوں سے آگے نکل کر ایک عملی پلان تیار کرنا ہو گا۔ انہوں نے قائد اعظم اور علامہ اقبال کی زندگیوں سے واقعات کی روشنی میں مسئلہ فلسطین کو اجاگر کیا اور کہا کہ سینٹ کی کمیٹی برائے دفاع جلد فلسطین کا دورہ کر کے اس متنازع امریکی فیصلے پر احتجاج کرے گی۔

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کیا جانا دہشت گردی ہے۔ امہ کو تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستان اور سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے اس مسئلہ پر سعودی عرب کی طرف سے مذمت سامنے آئی اور ہر مسلمان اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ امریکا نے القدس کے حوالے سے متنازع فیصلہ کر کے پوری دنیا کے مسلمانوں کو ناراضگی مول لی ہے۔ اب امریکی پارلیمنٹ میں بھی اس فیصلے کے خلاف بحث شروع ہو چکی ہے۔

ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے عالمی دنیا کے ذرائع ابلاغ اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ معاشرے اور بالخصوص نوجوانوں کو مسئلہ کی اہمیت سے آگاہ کریں اور اعلیٰ معیاری تعلیم کے ادارے اس مسئلہ کے حل کی تلاش میں کردار ادا کریں۔

صدر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے کہا کہ مسئلہ فلسطین سیاسی نہیں بلکہ مذہبی مسئلہ ہے۔ مسلمانوں کے قبلہ اول پر قبضہ ناقابل قبول اقدام ہے اور اس کو اس طرح سے تسلیم کیا جانا ایک قابل مذمت کام ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مسلم دنیا اس پیغام کو مسترد کر چکی ہے اور سعودی عرب سمیت ہر ملک نے اس غیر منصفانہ امریکی رویے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس موقع پر جامعہ الازہر کے اسلامی یونیورسٹی میں آئے اساتذہ سمیت فلسطینی اور دیگر ممالک کے اساتذہ نے اپنے مقالات بھی پیش کیے۔