.

ترازو تحریک انصاف نہیں، انصاف کی بحالی کے لیے ہونا چاہیے: نواز شریف

ہم پاگل ہیں، نہ بھیڑ بکریاں جو متنازع عدالتی فیصلے تسلیم کر لیں: سابق وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر اپنی نااہلی سے متعلق عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے فیصلوں کو سامنے رکھیں تو دہرا معیار سامنے آ جائے گا۔

اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ترازو انصاف کی بحالی کے لیے ہونا چاہیے، تحریک انصاف کے لیے نہیں. عدالتوں کا دہرا معیار اور انصاف کا خون نہیں چلے گا. ہم نہ بے وقوف اور پاگل ہیں نہ بھیڑ بکریاں جو اس طرح کے فیصلے آنکھیں بند کرکے تسلیم کر لیں. عدالتی فیصلے کے سامنے بند باندھ کر کھڑے ہیں اور عوام کے پاس جائیں گے۔

نواز شریف کا کہنا تھا "کہ ججز اپنے لاڈلے کی نااہلی روک دیتے ہیں اور جس منتخب وزیر اعظم نے کوئی خطا ہی نہیں کی اسے اٹھا کر پھینک دیتے ہیں، مجھے نہیں پتا کہ میں نے قومی خزانے کو کیا نقصان پہنچایا، ہر کسی کے لیے قانون کا ایک ہی سکہ چلے گا، جو تنخواہ میں نے لی ہی نہیں اسے میرا اثاثہ بنادیا گیا اور شک کا فائدہ دیے بغیر وزیر اعظم کو ہٹا دیا گیا‘‘۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک ایسے نہیں چلے گا اور دہرے معیار قبول نہیں کریں گے. پہلے عدلیہ بحالی کی تحریک چلائی تھی اور اب انصاف کی بحالی کے لیے تحریک چلائیں گے. ستر (70) سال سے کس نے آمروں کو گلے میں ہار پہنائے اور قانونی جواز دیا. مشرف سے حلف کس نے لیا اور کس نے دیا، کس کے دباؤ پر آمر سے آپ نے حلف لیا. سات دہائیوں سے ملک میں مذاق ہوتا رہا ہے لیکن پاکستانی قوم مزید اسے برداشت نہیں کرے گی۔ خیالی تنخواہ میرا اثاثہ بن گئی اور جس نے خود تسلیم کیا اسے کہا جا رہا ہے کہ یہ اس کا اثاثہ نہیں۔