.

شرکاء "لبیک یا اقصی کانفرنس" نے امریکی صدر کا فیصلہ مسترد کر دیا

"سرزمین الحرمین الشریفین کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کو بے نقاب کیا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر کے القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے اور حوثی باغیوں کی طرف سے ارض الحرمین الشریفین پر حملے کو مسترد کرتے ہیں۔ امریکی صدر اور اسلامی ممالک میں مداخلت کرنے والوں نے عالمی امن خطرے میں دال دیا ہے، سازشوں کا باہمی اتحاد سےمقابلہ کریں گے۔ پاکسان اور سعودی عرب القدس اور ارض الحرمین الشریفین کے دفاع اور سلامتی کے لئے سربکف ہیں۔ ملک گیر سطح پر تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصی مہم چلائی جائے گی۔ اسلامی عسکری اتحاد کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام "لبیک یا اقصی کانفرنس" سے 28 سے زائد مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، غیر ملکی سفراء و وکلاء نے خطب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں فلسطین کے سفیر ولید ابو علی نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکیوں سے عالم اسلام مرعوب ہونے والا نہیں۔ پاکستان میں سعودی عرب کے قائم مقام سفیر حبیب اللہ بخاری نے کہا کہ مملکت سعودی عرب آج بھی اسی موقف کے ساتھ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے، جس طرح کل تھا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے سربراہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے کہا کہ فلسطین مسلمانوں کا حق ہے اور حقدار کے پاس ہے رہے گا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکتر قبلہ ایاز نے کہا کہ لبیک یا اقصی کانفرنس تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کر رہی ہے۔ رابطہ عالم اسلامی کے پاکستان میں ڈائریکٹر عبدہ عتین نے کہا کہ القدس کل بھی مسلمانوں اور فلسطینیوں کا تھا اور آج بھی ہے۔ سپریم کورٹ بار کے نمائندہ جسٹس (ر) شفقت عباسی ایڈووکیٹ نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کی جدوجہد، آزادی کامیاب ہو کر رہے گی۔ مفتی راشد نسیم نے کہا کہ ارض الحرمین الشریفین پر ہونے والے حملے قابل مذمت اور ناقابل قبول ہیں۔

پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ٹرمپ نے القدس اور حوثی باغیوں نے ارض الحرمین الشریفین کے خلاف دہشت گردی کی ہے۔ امت مسلمہ کو ارض الحرمین الشریفین پر میزائل حملے کرنے والوں کے خلاف متحد ہو کر ایکشن لینا ہو گا۔ کانفرنس سے مفتی راشد مبین، مولانا عبدالحمید صابری، مولانا نعمان حاشر، مولانا شہزاد احمد قریشی، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا تائب خان سبحانی، مولانا الیاس مسلم، قاری ممتاز ربانی، مولانا عنایت اللہ شاہ، عمر شریف، مولانا حفیظ الرحمن، مولانا غلام اللہ خان، علامہ ساجد حسین نقوی، مصور عباسی ایڈووکیٹ، مولانا قاسم قاسمی، مولانا عابد اسرار اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

کانفرنس میں مندرجہ ذیل قرار دادیں پیش کی گئیں:

کانفرنس سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کی بھرپور مذمت، اقوام متحدہ اسلامی سربراہی کانفرنس سے حوثی باغیوں اور ان کے سرپرستوں اور امداد مہیا کرنے والوں کو بے نقاب اور ان کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ کانفرنس کوئٹہ اور بلوچستان میں ہونے والے بم دھماکوں خودکش حملوں کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور غم کے ان لمحات میں شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے ساتھ ہیں۔

کانفرنس جامعہ الازہر، رابطہ عالم اسلام اور پاکستان علماء کونسل کے فلسطین اور ارض الحرمین الشریفین پر بھرپور جرات مندانہ موقف پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ کانفرنس سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی فلسطینی صدر کے ساتھ ملاقات اور فلسطینی موقف کی مکمل تائید کو تحسین کی نظر سے دیکھتی ہے اور اس کی مکمل تائید کرتی ہے۔ کانفرنس اسلامی عسکری اتحاد کے سلسلہ میں پھیلائی جانے والی افواہوں اور پراپیگنڈے کی مذمت کرتی ہے۔