.

شہباز شریف، رانا ثنااللہ کو استعفے کیلئے اور 7 روز کی مہلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان عوامی تحریک کے زیرِ اہتمام حزبِ اختلاف کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل کل جماعتی کانفرنس میں شرکا نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کو ’سانحہ ماڈل ٹاؤن‘ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کے لیے سات جنوری تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

ہفتے کی شام منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ق سمیت دیگر جماعتوں نے شرکت کی۔

کانفرنس کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر طاہر القادری، پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’سانحہ ماڈل ٹاؤن‘ کے ذمے داروں کے استعفیٰ کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن تک استعفے نہ آنے پر تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل سٹیرنگ کمیٹی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

اس موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری نے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں تنبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’عوامی عدالت بھی لگ سکتی ہے، احتجاج بھی ہو سکتا ہے، دھرنا اور کچھ اور بھی ہو سکتا ہے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے‘۔

یاد رہے کہ جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے رہنما طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر اُن کے حامیوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 14 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بقول ان کے ختم نبوت سے متعلق انتخابی حلف نامے میں تبدیلی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ اعلامیے کے مطابق ’جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کے تحت شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں قتلِ عام کے ذمہ دار ہیں اور اے پی سی تمام صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان کے استعفوں کے مطالبے پر مبنی قرارداد منظور کروائیں‘۔