.

بلوچستان میں جاری سیاسی بحران میں شدت ، وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے منگل کے روز اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے جس کے بعد صوبے میں جاری سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

بلوچستان کے گورنر محمد خان اچکزئی نے فوری طور پر نواب ثناء اللہ زہری کا استعفا منظور کر لیا ہے۔صوبائی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے ارکان آج ہی ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے والے تھے لیکن اس کے اجلاس سے قبل ہی پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت نے وزیراعلیٰ کومستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی تا کہ جماعت کو اسمبلی میں مزید سبکی سے بچایا جاسکے۔

حزب اختلاف کے چودہ ارکان نے گذشتہ ہفتے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی تھی جس کے بعد اسمبلی کا تحریک پر رائے شماری کے لیے اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ صوبائی اسمبلی کے ارکان نے وعدے پورے نہ کرنے پر نواب ثناء اللہ زہری پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور ان کی کابینہ میں شامل تین وزراء نے بھی ان کی مخالفت کرتے ہوئے استعفے دے دیے ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گذشتہ روز ناراض ارکان اسمبلی کو منانے کی کوشش کی تھی لیکن انھوں نے ان سے ملاقات سے انکار کردیا تھا۔ صوبائی امسبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا عبدالواسع نے کہا تھا کہ ’’ ہم نے وزیراعظم سے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ اور ان کے پیروکار دو کشتیوں میں سوار نہیں ہوسکتے‘‘۔

سابق صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’’ ہم ایک ایسے نقطے پر کھڑے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ وزیراعظم سے میرے اچھے تعلقات ہیں لیکن یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے‘‘۔

سیاسی مبصرین بلوچستان میں اس سیاسی اتھل پتھل کو ایک سوچا سمجھا منصوبہ قرار دے رہے ہیں اور بظاہر اس کا ایک مقصد سینیٹ کے آیندہ ہونے والے انتخابات پر اثر انداز ہونا اور حکمراں مسلم لیگ ن کو ایوان بالا میں اکثریت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے گیارہ سینیٹرز مارچ میں ریٹائر ہورہے ہیں اور ان کی جگہ نئے سینیٹروں کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ صوبائی اسمبلی کی کل 65 نشستوں میں سے 21 پی ایم ایل ن کی ہیں لیکن اب ان میں سے بعض ارکان منحرف ہوچکے ہیں۔