.

کوئٹہ : زرغون روڈ پر بم دھماکا ، پانچ سکیورٹی اہلکاروں سمیت سات شہید

کالعدم ٹی ٹی پی کا پولیس پر خود کش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں واقع زرغون روڈ پر منگل کی شام ایک زور دار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں پانچ سکیورٹی اہلکاروں سمیت سات افراد شہید اور سولہ زخمی ہوگئے ہیں۔

فوری طور پر دھماکے کی نوعیت کا پتا نہیں چل سکا ہے لیکن حکام اس کو دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری نے دھماکے میں پانچ سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ دو راہ گیر بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کی عمارت پر ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کو واپسی پر ایک خودکش بمبار نے اپنے حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

یہ دھماکا زرغون روڈ پر جی پی او چوک کے نزدیک ہوا ہے اور حملہ آور بمبار نے خود کو وہاں کھڑے پولیس کے ایک ٹرک کے ساتھ دھماکے سے اڑایا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی عمارت اس کے نزدیک ہی واقع ہے۔یہی شاہرا ہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی جانب جاتی ہے۔زخمیوں میں آٹھ سکیورٹی اہلکار اور آٹھ عام شہری شامل ہیں اور انھیں سول اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بم دھماکے کی جگہ پر سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔اس علاقے میں دوسری اہم سرکاری عمارتیں بھی واقع ہیں اور یہاں بالعموم سکیورٹی سخت ہوتی ہے۔ اس دھماکے سے چندے قبل ہی بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ختم ہوا تھا اور اس میں کم وبیش تمام ارکان شریک تھے۔