.

صحافی طٰحہ صدیقی پر مسلح افراد کا تشدد، اغواء کرنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مسلح افراد نے عالمی نشریاتی اداروں کے لیے کام کرنے والے صحافی طحہ صدیقی کو اغوا کرنے کی کوشش کی مگر وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طحہ صدیقی کے ساتھ یہ واقعہ منگل کے روز ایکسپریس وے پر اس وقت پیش آیا جو وہ ایئرپورٹ کی جانب جا رہے تھے جہاں سے انھیں لندن کے لیے روانہ ہونا تھا۔

طٰحہ کا کہنا تھا کہ ہائی وے پر ایک وٹز گاڑی اور ڈبل کیبن نے جن میں آٹھ سے دس افراد موجود تھے ان کی ٹیکسی کو سامنے اور پیچھے سے روکا۔ ’انھوں نے مجھے گاڑی سے گھسیٹ کر نکالا اور انگریزی میں پوچھا تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو، تم ہمارے ساتھ چلو؟'

طٰحہ صدیقی نے بتایا کہ مزاحمت کرنے پر انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ جان سے مارنے اور ٹانگ میں گولی مارنے کی دھمکی دی گئی جس پر انھوں نے مسلح افراد کے ساتھ جانے پر رضا مندی ظاہر کر دی۔

'انھوں نے مجھے گردن سے پکڑ کر گاڑی میں بٹھایا تو میں نے دیکھا کہ گاڑی کا ایک دروازہ لاک نہیں تھا تو میں نے سیکنڈ میں فیصلہ کیا کہ میں بھاگ جاؤں اور میں نے دروازہ کھول کر آئی لینڈ پر چھلانگ لگا دی اور اسلام آباد ہائی وے کے دوسری جانب پہنچ گیا۔ اس دوران مجھے پیچھے سے گولی مار دو کی آوازیں سنائی دیں لیکن گولی نہیں چلی۔'

انھوں نے بتایا کہ انھیں اغوا کرنے کے لیے آنے والے مسلح افراد گاڑی میں موجود ان کی تمام ضروری اشیا بھی ساتھ لے گئے جس میں ان کا پاسپورٹ، موبائل فون، لیپ ٹاپ کمپیوٹر، سوٹ کیس اور وہ ہارڈ ڈرائیوز شامل ہیں جس میں ان کی ویڈیوز موجود تھیں۔

طحہ صدیقی نے بتایا کہ وہ ان دنوں پاکستان میں ہالی وڈ کے فلمساز مائیکل ونٹر بوٹم کے لیے کام کر رہے ہیں جس نے پاکستان میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے اغوا اور قتل کے موضوع پر ’مائٹی ہارٹ‘ نامی فلم بنائی تھی۔ ان کے مطابق وہ اس فلم کے پاکستان میں فلمائے گئے چند مناظر ہی لے کر لندن جا رہے تھے۔

طحہ صدیقی نے شبہ ظاہر کیا کہ 'مجھے اغوا کرنے کے پیچھے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہوسکتا ہے کیونکہ میں پاکستان میں ان کے کام کے بارے میں کھل کر لکھتا ہوں اور مجھے اس سلسلے میں کئی انتباہی کالز بھی موصول ہو چکی ہیں اور میرا ایک مقدمہ بھی عدالت میں زیرِ التوا ہے جس کی پیروی عاصمہ جہانگیر کر رہی ہیں۔'

طحہ صدیقی نے اپنے اغوا کی کوشش کی شکایت متعلقہ تھانے میں درج کرادی ہے اور پولیس نے ابتدائی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ اسلام آباد کے سپرنٹنڈنٹ پولیس رورل ڈاکٹر مصطفیٰ تنویر کا کہنا ہے کہ پولیس اس معاملے میں تمام امکانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تفتیش کرے گی۔

ان کے مطابق ان امکانات میں ڈکیتی کی کوشش اور اغوا برائے تاوان وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق پولیس سیف سٹی کے کیمروں کی ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں واقعے کا سراغ لگانے کی کوشش کریں گے۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق جو وٹز کار اس واقعے میں استعمال ہوئی ہے اس پر جعلی نمبر پلیٹ لگی تھی جو دراصل کسی مہران کار کی تھی۔