.

قصور:کمسن زینب کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، مظاہروں میں دو افراد جاں بحق

پولیس نے ملزم کا خاکہ جاری کر دیا، بچی کے والدین پاکستان پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قصور میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل کی گئی کمسن زینب کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے نماز جنازہ پڑھائی. نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کمسن بچی کے لرزہ خیز قتل کے خلاف پورا شہر سراپا احتجاج ہے، جگہ جگہ مظاہرے، عوام گیٹ توڑ کر ڈی سی آفس میں داخل ہوگئے فائرنگ سے دوشخص جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہو گئے، انتظامیہ کے خلاف سخت نعرے بازی بھی کی گئی۔

شہریوں کا موقف ہے کہ شہر میں ایک سال کے دوران 11 کمسن بچیوں کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا، لیکن پولیس تاحال ایک بھی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی۔

کم سن بچی زینب کے والدین پاکستان پہنچ گئے ہیں اور مِیڈیا سے بات کرتے ہوئے زینب کے والد کا کہنا تھا کہ اب چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف پاکستان اس واقعے کا سو موٹو نوٹس لیں جبکہ والدہ غم سے نڈھال ہونے کی وجہ سے میڈیا سے بات کرنے سے قاصر رہیں اور صرف اتنا ہی کہہ پائیں کہ اب میرے پاس میری زینب نہیں رہی تو میں کیا بات کروں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس نے سیشن جج قصور اور پولیس سے واقعے کی فوری طور پر رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ملزم کو آئندہ چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا جائے گا۔

پولیس نے ملزم کا خاکہ جاری کر دیا ہے

پولیس کے مطابق قصور کے علاقے روڈ کوٹ کی رہائشی 7 سالہ بچی 5 جنوری کو ٹیوشن جاتے ہوئے اغواء ہوئی اور 4 دن بعد اس کی لاش کشمیر چوک کے قریب واقع ایک کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی۔

پولیس کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد نے بتایا کہ شہر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تفتیش جاری ہے۔

ڈی پی او کا کہنا تھا کہ 'مجموعی طور پر زیادتی کے بعد قتل ہونے والی یہ آٹھویں بچی ہے اور زیادتی کا شکار بچیوں کے ڈی این اے سے ایک ہی نمونہ ملا ہے۔

سیاسی اور مذیبی جماعتوں کے قاِئدین نے اس واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کیا جائے اور کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔