.

عمران خان ، شیخ رشید کی گل افشانیِ گفتار کے خلاف قومی اسمبلی کی مذمتی قرارداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی قومی اسمبلی نے حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چئیر مین عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی پارلیمان کے خلاف تندوتیز تقریر وں کی مذمت میں ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔

قومی اسمبلی میں جمعرات کو وفاقی وزیر بلیغ الرحمان نے قرارداد پیش کی۔ایوان میں موجود ارکان نے اتفاق رائے سے اس کی منظوری دی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور شیخ رشید نے بدھ کی شب لاہور میں ایک احتجاجی ریلی سے خطاب کے دوران پارلیمان کو بُرا بھلا کہا تھا،اس کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی،اس پر لعنت بھیجی تھی اور یہ پوری قوم کی توہین ہے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ پارلیمان جمہوریت کا ایک شعبہ ( ڈیپارٹمنٹ ) ہے۔ملک کا استحکام اور خوش حالی اس سے جڑی ہوئی ہے۔ ملک میں (جمہوریت کے سوا) کوئی اور نظام نہیں چل سکتا‘‘۔اس قرارداد کی منظوری کے وقت قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان موجود نہیں تھے۔

شیخ رشید احمد نے لاہور میں مال روڈ پر پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام حکومت مخالف احتجاجی ریلی سے خطاب میں بار بار پارلیمان کو کوسنے دیے تھے اور کہاتھا کہ وہ اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔انھوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا بھی اعلان کیا تھا۔انھوں نے عمران خان سے بھی بالاصرار کہا تھا کہ وہ اور ان کی جماعت کے ارکان بھی قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفے دے دیں کیونکہ ان کے بہ قول پارلیمان عوام کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔شیخ رشید کی پیروی میں عمران خان نے بھی اپنی تقریر میں پارلیمان کے خوب لتے لیے تھے۔

قومی اسمبلی میں آج اجلاس کے دوران میں حکومتی اور حزب اختلاف کے ارکان نے عمران خان اور شیخ رشید احمد کو پارلیمان کو تنقید کا نشانہ بنانے پر آڑے ہاتھوں لیا ۔قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف خورشیداحمد شاہ نے کہا کہ انھوں نے جب عمران خان اور شیخ رشید کی ایوان کے خلاف تقریریں سنی تھیں تو انھیں اس پر سخت افسوس ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’’ سیاست دانوں نے اس پارلیمان کے لیے ناقابل تصور قربانیاں دی ہیں۔ میں خود سولہ سال کی عمر میں پہلی مرتبہ جیل گیا تھا۔پارلیمان ہی واحد ادارہ ہے جو ملک کو بچا سکتا ہے ۔اسی نے ملکی آئین مرتب اور منظور کیا تھا جس سے پاکستانیوں کو بولنے کا حق ملا تھا،ادارے مضبوط ہوئے تھے اور ان کے درمیان اختیارات کی تقسیم ہوئی تھی‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ پارلیمان کے خلاف جو الفاظ بولے گئے تھے، میں انھیں دُہرا نہیں سکتا۔اداروں کی توہین کی گئی ہے ۔سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی اداروں کی توہین کی ہے اور عمران خان نے بھی ایسا کیا ہے‘‘۔

قبل ازیں اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جن اپوزیشن لیڈروں نے پارلیمان کی توہین کی ہے ،انھیں قومی اسمبلی میں بلایا جائے اور ان سے ان کے بیانات کی وضاحت طلب کی جائے۔اگر وہ قومی اسمبلی میں نہیں آتے تو پھر انھیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا :’’ ہم اس طرح کی زبان درازی کی اجازت نہیں دیں گے۔عام انتخابات قریب آرہے ہیں۔ہر کسی کو مہم چلانے اور ووٹروں سے حمایت کے حصول کا حق حاصل ہے لیکن کسی کو گالم گلوچ کا حق حاصل نہیں ہے۔اس ایوان نے اس سے قبل اس طرح کی شرمناک حرکت نہیں دیکھی تھی‘‘۔

انھوں نے شیخ رشید اور عمران خان کو مخاطب ہوکر کہا:’’ آپ کو جو بھی عزت ملی ہے، وہ اس پارلیمان کی رکنیت کی بدولت ہی ملی ہے۔یہ دونوں صاحبان اس پارلیمان کے تقدس کو پامال کررہے ہیں۔اگر اس پارلیمان کے باعث عزت پانے والے ہی اس کی بے توقیری کریں گے،اس پر دشنام طرازی کریں گے تو پھر دوسرے ادارے بھی اس کی عزت نہیں کریں گے‘‘۔