.

مشال قتل کیس: مرکزی مجرم کو موت کی سزا، 5 کوعمر قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشال خان قتل کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے ایک مجرم کر سزائے موت اور 5 مجرموں کو عمر قید، 25 مجرموں کو 4 چار سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ 26 کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔

مشال خان قتل کیس کا آج ہری پور سینٹرل جیل میں جج فضل سبحان خان نے فیصلہ سنایا۔ فیصلے سے قبل 58 ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے کیس میں بری ہونے والے 26 ملزمان کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ کیس کے مرکزی ملزم عارف سمیت 3 افراد تاحال مفرور ہیں۔

اس موقع پر ملزمان کے ورثاء نے سیاسی و مذہبی جماعتوں او این جی اوز کے ہمراہ احتجاج کا اعلان بھی کر رکھا تھا ۔ فیصلے کے خلاف ہری پور سینٹرل جیل کے باہر مردان پشاور چارسدہ میں ردعمل سامنے لاکر احتجاج کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

یاد رہے کہ مردان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو مبینہ توہین رسالت کے الزام پر قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد 61افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جن میں سے 58ملزمان کو گرفتار کیا گیا 3 تاحال مفرور ہیں۔

دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے گرفتار افراد کی ضمانتوں کو مسترد کر رکھا ہے گواہوں کے بیانات ریکارڈ سمیت جرح اور دلائل کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے جبکہ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے معزز جج فضل سبحان خان نے اس کیس کی سماعت کی ہے۔

پولیس نے اس کیس میں مطلوب 61 ملزمان میں سے اب تک 58 کو گرفتار کیا ہے ، جبکہ پی ٹی آئی کے تحصیل کونسلر عارف مردانوی ،پختون ایس ایف کے رہنما صابرمایار اور یونیورسٹی کا ایک ملازم اسد ضیاء تاحال مفرور ہیں ۔

واضح رہے کہ 13اپریل کو عبدالولی خان یونی ورسٹی مردان میں جرنلزم کے 23 سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر جان سے مار دیا۔