.

جنرل باجوہ نے مزید سات دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی مسلح فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مذید سات دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی یہ دہشت گرد، شہریوں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہیں جس کے نتیجے میں 85 افراد جاں بحق اور 109 زخمی ہوئے۔

جمعہ کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردی کے سنگین جرائم میں ملوث مذید سات دہشت گردوں کی فوجی عدالتوں سے پھانسی کی سزا کی توثیق کر دی ہے یہ دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کو مارنے میں ملوث ہیں ان دہشت گردوں سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا تھا دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے سزائے موت سنائی گئی پھانسی کی سزا پانے والوں میں اطلس خان ولد مدا میر جان۔ یونس خان ولد میر اعظم خان کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے اور یہ پاکستان کی مسلح افواج پر حملوں میں ملوث ہیں۔

بیان کے مطابق مجرموں نے ٹرائل کورٹ کے دوران مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے اسی طرح فرحان ولد سین گل کا تعلق بھی کالعدم تنظیموں سے ہے اور اسکے سیکورٹی فورسز و قانون نافذ کرنیوالے اداروں ا ور معصوم شہریوں پر حملوں کے دوران سب انسپکٹر جان دراز خان سمیت دو پولیس افسران، صوبیدار محمد عرفان، نائب صوبیدار عبداللہ سمیت بارہ سپاہیوں کو شہید کر دیا گیا کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے اس دہشتگرد کے حملے میں ایف سی اور پاک فوج کے 18جوان زخمی ہوئے اس نے بھی ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے اس طرح یہ دہشت گرد پولیس اور مسلح افواج کے پندرہ اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہے۔

آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ خلائے گل ولد نیاز میاں گل اور نذر مون ولد اکی مون کا تعلق بھی کالعدم تنظیموں سے ہے اور اپنے جرم کا اعتراف کر چکے ہیں بیان کے مطابق دہشت گرد اکبر علی سوات میں امن کمیٹی کے ارکان شاہی رحمان، بدیع الرحمان کو قتل کرنے میں ملوث ہے۔