.

زینب قتل کیس کے ملزم عمران پر جیل میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں زينب قتل کيس کے ملزم عمران علی سے پولیس تفتيش مکمل ہونے پر اس کا چالان عدالت ميں پيش کر ديا گيا ہے جبکہ ملزم کے خلاف باقاعدہ مقدمہ ہفتہ کے روز سے شروع ہو گا۔

پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کو بتايا کہ ملزم عمران علی جرم کا اعتراف نہيں کيا، ليکن مختلف ٹیسٹوں کی رپورٹوں میں اس کا جرم ثابت ہو گیا ہے۔ زینب قتل کیس کے ملزم عمران علی کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاهور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے عدالت میں ملزم کے ٹرائل سے متعلق رپورٹ جمع کرائی۔ جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے شواہد اکٹھے کیے ہیں؟ جس پر پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 'ملزم کا ڈی این اے قتل ہونے والی ساڑھے چھ سالہ زینب سے میچ ہوا ہے۔ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی اس کی نشاندہی ہوئی ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عمران علی کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا گیا تھا جو مثبت آیا ہے۔ فوٹو پرنٹ سے بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ملزم سے کپڑے بھی برآمد ہوئے ہیں اور پچپن گواہوں کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے ہیں'۔ جس پر عدالت نے احتشام قادر سے پوچھا کہ کیا ملزم نے اعترافي بیان ریکارڈ کرایا ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اعتراف جرم نہیں کیا۔

سماعت کے دوران ملزم عمران علی کے وکيل شکیل الرحمن نے ڈي اين اے رپورٹ کي قانوني حيثيت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عمران اس قتل کے مجرم نہیں اور ان کے موکل کے خلاف پولیس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ 'پولیس کے پاس صرف ڈي اين اے رپورٹ ہے، جس کي بنياد پر سزا نہيں ہو سکتي اور جب تک ان کے موکل پر جرم ثابت نہیں ہو جاتا اسے مجرم نہیں کہا جا سکتا'۔

عدالت نے زینب قتل کیس کے ملزم عمران علی کو تفتیش مکمل ہونے پر اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جبکہ ملزم کے خلاف مقدمے کا آغاز ہفتہ سے کوٹ لکھپت جيل ميں ہو گا۔

خیال رہے کہ پولیس نے زینب کے سفاک قاتل کو 14 روز بعد گرفتار کر لیا تھا۔ ملزم عمران علی کی ڈی این اے سے تصدیق کی گئی۔ زینب اور ملزم کے اہلخانہ کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا۔ ملزم بچی کو اکثر باہر لے جایا کرتا تھا۔ زینب کے قتل کے بعد قصور میں ہنگاموں کے دوران ملزم پہلے پاکپتن فرار ہوا اور پھر وہاں سے عارف والا چلا گیا تھا۔

ملزم نے پہلی واردات جون 2015 میں کی تھی، زیادتی کے بعد قتل کی جانیوالی بچیوں کی عمر 4 سے 9 سال تھی۔ متاثرہ بچیوں میں تہمینہ، عائشہ، عاصمہ، لائبہ، زینب، کائنات، ایمان فاطمہ اور نور فاطمہ شامل ہیں۔