.

بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے: پاکستانی وزیرِ دفاع

"الزام لگانے کے بجائے نئی دہلی، پاکستان کے خلاف ریاستی سطح پر کی جانے والی سازشوں کا جواب دے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"پاکستان، بھارت کی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی بھارتی اقدام کا اسی زبان اور طاقت سے جواب دے گا۔"

بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتھارامان کے بیان پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع خرم دستگیر کا کہنا تھا "کہ بھارت کو کسی بھی ٹھوس ثبوت کے بغیر الزام لگانے کے بھونڈے عمل کے بجائے پاکستان کے خلاف ریاستی سطح پر کی جانے والی سازشوں کا جواب دینا چاہئے، جس کا منہ بولتا ثبوت کلبھوشن یادو کی شکل میں پوری دنیا کے سامنے ہے۔"

وزیر دفاع نے کہا کہ "درحقیقت بھارت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر2017 سے 5 گنا زیادہ فوجی حملوں اور ایٹمی ڈیٹرنیٹ بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے."

"پاکستان کے خلاف بھارتی حکومت کی ممکنہ تزویراتی غلط فہمی پر مبنی کاررروائی سے جنوبی ایشیا کا اسٹرٹیجک استحکام متاثر ہوگا لیکن کسی بھی جارحیت، غلط فہمی یا مہم جوئی کی شدت، طریقہ یا محل وقوع سے قطع نظر بھرپور جوابی کارروائی ہو گی اور بھارت کو اس کی زبان میں منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔"

انجینئر خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ "ہم اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا جانتے ہیں. پاکستان کی مسلح افواج تمام امکانات بارے چوکس اور چوکنے ہیں اور اپنی علاقائی یکجہتی اور ملکی استحکام و دفاع کے لئے بھرپور اور مکمل طور پر تیار ہیں اور افواجِ پاکستان کو زمینی، بحری اور فضائی حدود کے دفاع کے حوالے سے عوام کی بھرپور حمایت اور تعاون حاصل ہے۔"

درایں اثنا ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کیمپ پر حملے سے متعلق بھارتی وزیر دفاع کے الزامات کو مستر د کرتا ہے۔ بھارتی الزامات بے بنیاد ہیں جب کہ بھارت کا یہ رحجان بن گیا ہے کہ وہ بغیرثبوت فوری طور پر پاکستان پرالزام لگا دیتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی کی جانب سے ایسے الزامات اور دھمکیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا جب کہ پاکستان کسی بھی جارحانہ کارروائی کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتھارامان کا مقبوضہ کشمیر میں فوجی کیمپ پر حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کو ان حملوں کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔