.

علاقائی امن واستحکام کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے: جنرل باجوہ

پاکستانی فوج کے سربراہ سمیت ہمسایہ ممالک کے سرکردہ فوجی عہدیدار نے اہم دفاعی کانفرس میں شرکت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کردی ہیں تاہم دہشت گرد 27 لاکھ افغان مہاجرین اور غیر موثر سرحدی انتظامات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے جہاں انہوں نے چیفس آف ڈیفنس کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس میں افغان آرمی چیف، کمانڈر امریکی سینٹ کام، کمانڈر ریزولوٹ سپورٹ مشن اور قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے آرمی چیفس نے شرکت کی۔

کابل میں چیفس آف ڈیفنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ علاقائی امن واستحکام کا راستہ افغانستان سے گزرتا ہے۔ خطے اکٹھے ترقی کرتے ہیں، انفرادی طور پر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے علاقے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کردیں تاہم دہشت گرد 27 لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی اور غیر موثر سرحدی انتظامات کا فائدہ اٹھاتے ہیں، ایسے دہشت گردوں کو آپریشن رد الفساد کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستانی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور جواب میں پاکستان بھی دوسرے ممالک سے اسی رویے کی امید رکھتا ہے، مشترکہ سوچ اور تحمل کے ساتھ تمام چیلنجز کامقابلہ کیا جا سکتا ہے جس کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

کابل میں ہونے والی 'چیف آف ڈیفنس' کانفرنس میں امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل، افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکولسن اور افغان فوج کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی نے بھی شرکت کی۔

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب جنگ سے تباہ حال اس ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں صرف دارالحکومت کابل میں ہی تین بڑے مہلک دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں 140 کے لگ بھگ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

اسی دوران ملک کے مختلف حصوں میں بھی عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کی اطلاعات آئے روز سامنے آتی رہی ہیں اور طالبان کو امن عمل میں شامل کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں بھی تاحال بار آور ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔

کابل میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد افغان وزیرِ داخلہ اور انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ اسلام آباد آئے تھے اور انھوں نے ان حملوں سے متعلق بعض شواہد کا پاکستانی حکام سے تبادلہ کیا تھا جن میں ان حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

تاہم پاکستانی عہدیداروں نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ شواہد قابلِ اعتماد نہیں لیکن اگر افغانستان چاہے تو پاکستان ان حملوں کی تحقیقات میں معاونت کے لیے تیار ہے۔