.

زینب قتل کیس: ملزم کے وکیل کا پیروی سے دستبرداری کا اعلان

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے زینب قتل کیس کے ملزم عمران کو سرکاری وکیل مہیا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید زینب قتل کیس میں نامزد ملزم عمران کے وکیل مہر شکیل ملتانی نے اپنا وکالت نامہ واپس لیتے ہوئے کیس سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔

دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے مہر شکیل ملتانی نے میڈیا کو بتایا کہ "ملزم عمران نے مجھے بھی گمراہ کیا۔ عمران ہی زینب سمیت 9 ننھی بچیوں کا قاتل ہے۔ ملزم کے اعترافی بیان کے بعد میں ظلم کا ساتھ نہیں دے سکتا، اس لیے خود کو عمران کی وکالت سے الگ کر رہا ہوں۔ ملزم کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔"

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے زینب قتل کیس کے ملزم عمران کو سرکاری وکیل مہیا کر دیا اور اب محمد سلطان ملزم عمران کی وکالت کریں گے۔

واضح رہے کہ سماعت کے پہلے روز فرد جرم عائد ہونے پر ملزم عمران نے اقرار جرم کرلیا تھا تاہم عدالت نے ملزم کے اعترافی بیان کے بعد بھی ٹرائل جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج سجاد احمد زینب قتل کیس کی سماعت کر رہے ہیں اور کیس کی سماعت کے دوران گزشتہ روز 16 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گیے۔

بدھ کے روز کیس میں شہادتوں کا مرحلہ مکمل ہو گیا جس کے بعد مجموعی طور پر اب تک 36 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جا چکے ہیں جن میں زینب کے چچا اور 5 سال کا بھائی بھی شامل ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق کل ملزم عمران کا بیان قلم بند کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق محکمہ پراسیکیوشن کی جانب سے کیس کے چالان میں نامزد کیے گئے پراسیکیوشن گواہان کی تعداد 56 ہے۔ پراسیکیوشن کے 32 گواہان کے بیان پر جرح بھی گزشتہ روز مکمل کی گئی۔ عدالت آئندہ سماعت پر ملزم کا 342 کا بیان ریکارڈ کرے گی۔

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر جیل میں موجود رہے اور اپنی نگرانی میں گواہان کے بیان قلمبند کروائے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق کل ملزم عمران کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔